متحدہ عرب امارات

عید الفطر پر متحدہ عرب امارات میں 35 قومیتوں کے 375 بائیکرز نے ملک بھر میں یکجہتی کی علامت کے طور پر مشترکہ سڑک کا سفر کیا

خلیج اردو
عید الفطر کی آمد کے موقع پر متحدہ عرب امارات میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں موٹر سائیکل سوار سالانہ بائیک رائیڈ کے لیے تیار ہیں، جو خطے کے سب سے بڑے ملٹی کلب بائیکنگ اجتماعات میں سے ایک بن چکی ہے۔

چوتھی "بائیکر بڈیز ایڈ برادرہڈ رائیڈ” عید کے دوسرے دن منعقد ہوگی، جس میں تقریباً 375 موٹر بائیکرز حصہ لیں گے، جو 35 قومیتوں اور 23 موٹرنگ کلبز کی نمائندگی کریں گے۔

منتظمین کے مطابق یہ تقریب، جو 2023 میں صرف 175 بائیکرز کے ساتھ شروع ہوئی تھی، متحدہ عرب امارات میں مختلف ثقافتوں کے حامل سواروں کی یکجہتی کا مظہر بن چکی ہے اور ساتھ ہی ایک فلاحی مقصد کی حمایت بھی کرتی ہے۔

کارواں دبئی سے کلابا کورنیش تک کا روٹ طے کرے گا، جو تقریباً 280 کلومیٹر کا سفر ہے اور صحرا کی شاہراہوں اور پہاڑی راستوں سے گزرتے ہوئے مشرقی ساحل تک پہنچتا ہے۔

پچھلے سالوں کی طرح، شرکاء مزدوروں کے رہائشی علاقوں میں پانی کے کولر نصب کرنے میں تعاون کریں گے تاکہ شدید گرمی سے قبل بلیو کالر کارکنوں کو راحت فراہم کی جا سکے۔

ایونٹ کے منتظم اور بائیکر بڈیز برادرہڈ کے صدر وکی ایم نے کہا، "ہم مقصد کے لیے سفر کرتے ہیں۔ جب سینکڑوں بائیکرز ایک ساتھ آتے ہیں تو یہ کمیونٹی کی طاقت اور ان لوگوں کی مدد کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے جن کی روزمرہ مشکلات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔”

وکی ایم کے مطابق یہ ایونٹ مختلف کلبز، ثقافتوں اور پس منظر کے حامل سواروں کو عید کے موقع پر متحد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو کھیلوں، برداشت اور خیرات کو فروغ دیتا ہے۔ یہ رائیڈ اس جذبے کا جشن ہے اور ساتھ ہی دوسروں کی مدد کرنے کا موقع بھی۔”

یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور متحدہ عرب امارات مسلسل میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا رہا ہے، مگر منتظمین کے مطابق یہ رائیڈ ملک بھر میں معمول کے مطابق زندگی اور ہم آہنگی کا پیغام بھی دیتی ہے۔

سینگز ایم سی یو اے ای کے سینئر رکن ایس الفریڈ سنگھ کے مطابق یہ رائیڈ بائیکنگ کمیونٹی سے آگے جا کر اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے۔

شرکت کنندگان میں ہارلے اونرز گروپ دبئی کے مارشل رونی سونسن بھی شامل ہیں، جنہوں نے سویڈن سے امارات میں رہائش اختیار کی اور پندرہ سال سے ملک میں موٹر سائیکل کی شوقین کمیونٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، "بائیکر بڈیز ایڈ برادرہڈ رائیڈ خاص ہے کیونکہ مختلف ثقافتوں کے حامل سوار ایک ہی جذبے کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں۔”

خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت بھی اس رائیڈ کا اہم پہلو ہے۔ ہارلے اونرز گروپ دبئی کی رچا توتھانگ، جو پانچ بچوں کی ماں ہیں، نے کہا، "یہ ایونٹ بائیکنگ سے بڑھ کر بھائی چارے اور یکجہتی کی علامت ہے، جو عید کے حقیقی پیغام کو اجاگر کرتا ہے۔”

ہارلے، بی ایم ڈبلیو، ہونڈا اور رائل اینفیلڈ جیسی مختلف بائیکز اس کارواں میں شامل ہوں گی، جو امارات کی متنوع بائیکنگ کمیونٹی کی عکاسی کرتی ہیں۔

بلیو اوریکس ایم سی کے سینئر رائیڈر جینٹ کیکلا، جو چار دہائیوں سے امارات میں مقیم ہیں اور اپنے کلب میں ‘نانا’ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے کہا، "یہ دیکھنا شاندار ہے کہ اتنے مختلف کلبز اور قومیتوں کے سینکڑوں بائیکرز بھائی چارے اور خیرات کے مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔”

منتظم وکی ایم کے مطابق یہ رائیڈ ہر سال بڑھ رہی ہے اور امارات کی بائیکنگ کمیونٹی کی روح اور یکجہتی کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button