
خلیج اردو
ابوظہبی: کلیولینڈ کلینک ابوظہبی نے متحدہ عرب امارات میں چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے علاج اور تحقیق میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چھاتی کا سرطان خواتین میں سب سے زیادہ پایا جانے والا مرض ہے، جس کے 2022 میں 2.3 ملین نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ یہ خواتین میں سرطان سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔ وزارتِ صحت و تحفظ کے مطابق 2023 میں ملک میں 1,456 نئے بریسٹ کینسر کیسز رپورٹ ہوئے، جو تمام تشخیص شدہ سرطان کے کیسز کا تقریباً 20.5 فیصد اور خواتین میں پائے جانے والے کیسز کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔
اس بڑھتے ہوئے چیلنج کے پیشِ نظر کلیولینڈ کلینک ابوظہبی نے 2023 میں فاطمہ بنت مبارک سینٹر قائم کیا، جو سرطان کے علاج کے لیے ایک جدید اور مکمل مرکز ہے۔ یہ سینٹر امریکی کلیولینڈ کلینک کے ٹاؤسیگ کینسر سینٹر کے ماڈل پر بنایا گیا ہے اور اس میں جینیاتی ٹیسٹنگ، جدید تشخیص، ہدفی علاج اور سرجری سمیت تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جا رہی ہیں۔
جینیاتی تحقیق اور ابتدائی تشخیص
کلینک کا "Hereditary High-Risk Program” جینیاتی خطرات کی بنیاد پر خواتین کی شناخت کرتا ہے جنہیں بریسٹ کینسر لاحق ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ BRCA1 یا BRCA2 جیسے جینیاتی تغیرات رکھنے والی خواتین یا جن کے خاندان میں سرطان کی تاریخ پائی جاتی ہے، ان کے لیے خصوصی مانیٹرنگ، مشاورت، اور احتیاطی اقدامات کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
بریسٹ امیجنگ سوئٹ میں جدید سہولیات جیسے 3D میموگرافی، بریسٹ MRI، اور AI پر مبنی کمپیوٹر اسسٹیڈ ڈیٹیکشن (CAD) استعمال کی جاتی ہیں، جس سے بیماری کی بروقت اور درست تشخیص ممکن بنائی جا رہی ہے۔
جدید علاج اور سرجری
کلیولینڈ کلینک ابوظہبی نے ملک میں پہلی مرتبہ روبوٹک ماسٹیکٹومی متعارف کرائی، جو سرجری کے دوران صدمہ کم کرتی اور صحت یابی کے عمل کو تیز بناتی ہے۔ اسی طرح، یہاں پہلی بار لِمفیڈیما سے بچاؤ کے لیے بائی پاس سرجری بھی متعارف کرائی گئی۔
مرکز کے قیام کے بعد سے اب تک تقریباً 800 بریسٹ کینسر سرجریز مکمل کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، AI سے چلنے والی اڈیپٹیو ریڈیوتھراپی بھی پہلی بار متحدہ عرب امارات میں متعارف کی گئی ہے، جو جسم کی روزانہ کی ساختی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کر کے زیادہ محفوظ اور مؤثر علاج فراہم کرتی ہے۔
جامع نگہداشت اور بحالی
علاج کے بعد مریضوں کی صحت بحالی کے لیے اسپتال کا Lifestyle Medicine Programme فعال کردار ادا کر رہا ہے، جس میں فٹنس، غذائیت، اور ذہنی دباؤ کے انتظام پر مبنی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
عالمی سطح کا ماہر عملہ
فاطمہ بنت مبارک سینٹر کا Tumor Board مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہے جو ہر مریض کے لیے انفرادی علاج کا منصوبہ تیار کرتے ہیں۔ اس ٹیم کی قیادت ڈاکٹر اسٹیفن گروب مائر کر رہے ہیں، جو سینٹر کے چیف سرجن اور کینسر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ہیں۔
تحقیق اور مستقبل کی سمت
کلیولینڈ کلینک ابوظہبی مشرقِ وسطیٰ کا پہلا اسپتال ہے جو Selective Estrogen Receptor Degrader (SERD) پر عالمی کلینیکل ٹرائل میں شامل ہوا ہے، جو بریسٹ کینسر کی دوبارہ واپسی کو روکنے میں انقلاب لا سکتا ہے۔
مزید برآں، اسپتال نے BioTwin کے ورچوئل ہیومن ٹوئن سسٹم پر مبنی پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا ہے، جو مصنوعی ذہانت، بایومیٹرکس، اور ڈیجیٹل تجزیات کی مدد سے مریض کا مجازی نمونہ بنا کر علاج کو انفرادی نوعیت دیتا ہے۔
جلد ہی اسپتال میں خطے کی پہلی ہیوی آئن تھراپی سہولت بھی قائم کی جا رہی ہے، جو دنیا میں صرف 15 مراکز میں دستیاب ہے۔ یہ علاج کینسر کے پیچیدہ کیسز کے لیے انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
آگاہی مہم
اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کینسر آگاہی کے سلسلے میں اسپتال نے "ابتدائی تشخیص، زندگی کی ضمانت” کے پیغام کو اجاگر کیا ہے، تاکہ خواتین میں بروقت جانچ کی اہمیت واضح کی جا سکے۔
کلیولینڈ کلینک ابوظہبی اپنے مریضوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات گھر کے قریب فراہم کر رہا ہے، جو متحدہ عرب امارات کو خطے میں کینسر ریسرچ اور علاج کا مرکز بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔







