
دبئی: اگر آپ نے کسی ریئل اسٹیٹ کمپنی میں ملازمت کے دوران طے شدہ کمیشن پر کام کیا ہے تو آپ کا آجر اسے روکنے کا اختیار نہیں رکھتا، چاہے آپ نے بروکر کا لائسنس ری نیو نہ بھی کیا ہو۔
قانونی ماہرین کے مطابق، دبئی جنرل کورٹ آف کیسیشن (اپیل نمبر 1، 2022) نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بروکری کا معاہدہ لائسنس نہ ہونے کے باعث کالعدم قرار پاتا ہے تو بروکر کسی تیسرے فریق سے اجرت یا خرچ واپس نہیں لے سکتا۔ تاہم، آپ کا معاملہ ایک ملازم اور آجر کے درمیان ہے، جہاں کمیشن آپ کی تنخواہ کا حصہ تھا اور یہ آپ کے ملازمت کے معاہدے میں طے کیا گیا تھا۔ اس لیے کمیشن کمپنی کی جانب سے آپ کو دیا جانا لازم ہے، کیونکہ آپ نے کمپنی کے لیے بروکری کی خدمات فراہم کیں، نہ کہ ذاتی طور پر۔
کمیشن اور دیگر بقایا جات یواے ای لیبر لا کے تحت اجرت کا حصہ تصور ہوتے ہیں، اور آجر انہیں روکنے کا مجاز نہیں۔ عدالت یہ طے کرنے کی مکمل اتھارٹی رکھتی ہے کہ تعلق روزگار کا ہے یا نہیں، اور اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ملازم آجر کی نگرانی اور کنٹرول میں کام کر رہا تھا یا نہیں۔
یعنی اگر آپ کے پاس ملازمت کا معاہدہ، طے شدہ تنخواہ اور کمیشن کے شواہد موجود ہیں تو آپ اپنے بقایا کمیشن اور اینڈ آف سروس بینیفٹس کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔







