متحدہ عرب امارات

دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی نے ایچ ڈی ایف سی بینک کی ڈی آئی ایف سی برانچ پر نئے کلائنٹس لینے پر پابندی عائد کر دی

خلیج اردو
دبئی، 27 ستمبر 2025:
دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی (DFSA) نے بھارتی نجی شعبے کے سب سے بڑے بینک ایچ ڈی ایف سی کی دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) برانچ کو نئے کلائنٹس آن بورڈ کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ اقدام ریگولیٹری خدشات کے بعد کیا گیا جو رواں سال کے اوائل میں سامنے آئے تھے۔

ڈی ایف ایس اے نے خلیج ٹائمز کو ہفتے کے روز جاری بیان میں تصدیق کی کہ 25 ستمبر 2025 کو "ڈسیژن نوٹس” جاری کیا گیا، جس کے تحت 26 ستمبر سے بینک کی ڈی آئی ایف سی برانچ کو نئے کلائنٹس کے ساتھ کاروبار، مشاورت، سرمایہ کاری کے سودوں کے انتظام، کریڈٹ سے متعلق مشاورت یا کسٹڈی سے متعلق معاہدوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

البتہ موجودہ کلائنٹس کو خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور جن صارفین کو نوٹس سے قبل مصنوعات کی پیشکش کی گئی تھی وہ آن بورڈنگ کا عمل مکمل کر سکیں گے۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ڈی ایف ایس اے اسے ختم یا ترمیم نہیں کرتا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جون میں خلیج ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ ایچ ڈی ایف سی بینک نے مبینہ طور پر یو اے ای میں ریٹیل سرمایہ کاروں کو کریڈٹ سوئس کے ہائی رسک ایڈیشنل ٹئیر-1 (AT1) بانڈز فروخت کیے اور ان کے "کلائنٹ پروفائلز” میں ردوبدل کر کے انہیں پروفیشنل کلائنٹس ظاہر کیا۔ متعدد سرمایہ کاروں نے شکایت کی کہ ان کی "نیٹ ورتھ” جعلی طور پر بڑھا کر دستاویزات میں شامل کی گئی۔

دبئی کے رہائشی ورون مہاجن، جنہوں نے کریڈٹ سوئس بانڈز میں 3 لاکھ ڈالر کھوئے، کا کہنا تھا کہ یہ اقدام درست سمت میں ہے لیکن متاثرین کو پہنچنے والا نقصان اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ ان کے مطابق 100 سے زائد سرمایہ کاروں کے ایک ارب ڈالر سے زائد ضائع ہوئے ہیں اور اصل احتساب کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

بھارت میں بھی ایچ ڈی ایف سی بینک کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) اور اکنامک آفینسز وِنگ (EOW) نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بینک کے اعلیٰ حکام بشمول منیجنگ ڈائریکٹر کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ متعدد شہروں میں پولیس شکایات بھی درج ہو چکی ہیں۔

ایچ ڈی ایف سی بینک نے بمبئی اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں فائلنگ کے ذریعے وضاحت کی ہے کہ دبئی برانچ میں 23 ستمبر تک 1,489 کلائنٹس آن بورڈ تھے۔ بینک نے کہا کہ دبئی آپریشنز اس کے مجموعی مالی ڈھانچے کے لیے "اہمیت کے حامل نہیں” اور کارکردگی پر کوئی بڑا اثر مرتب نہیں ہوگا۔ بینک نے مزید کہا کہ وہ ڈی ایف ایس اے کی ہدایات پر عملدرآمد کر رہا ہے اور مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button