متحدہ عرب امارات

دبئی میں خودکار گاڑیوں کی آزمائش کا آغاز، 2026 تک ڈرائیور کے بغیر سفری سہولت متعارف کرانے کا ہدف

خلیج اردو
دبئی نے خودکار (ڈرائیور کے بغیر چلنے والی) گاڑیوں کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت کی ہے، جہاں اس سال کے آخر میں خودکار گاڑیوں کے پائلٹ ٹرائلز شروع کیے جائیں گے۔ یہ اقدام 2026 تک مکمل طور پر بغیر ڈرائیور کے تجارتی سفری خدمات کے آغاز کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) نے اس مقصد کے لیے معروف عالمی کمپنی Pony.ai کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ Pony.ai خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما سمجھی جاتی ہے۔

Pony.ai کی ساتویں جنریشن کی خودکار گاڑیاں Toyota، GAC، اور BAIC جیسے عالمی اداروں کے اشتراک سے تیار کی گئی ہیں۔ ان گاڑیوں میں جدید مصنوعی ذہانت، لائیڈار، ریڈار اور کیمرے جیسے سینسرز شامل ہیں جو مختلف موسمی اور ٹریفک حالات میں محفوظ اور درست نیویگیشن کو یقینی بناتے ہیں۔

یہ کمپنی Tencent اور Alibaba جیسے ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ مل کر اپنی روبوٹیکسی سروسز کو WeChat اور Alipay جیسی روزمرہ ایپس میں ضم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو سمارٹ موبیلٹی کی سہولیات آسانی سے دستیاب ہوں۔

یہ آزمائشیں دبئی کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد امارات کو سمارٹ اور پائیدار ٹرانسپورٹ میں عالمی رہنما بنانا ہے۔

RTA کے ڈائریکٹر جنرل اور ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین مطر الطائر نے کہا کہ دنیا کی معروف کمپنیوں کے ساتھ شراکتیں دبئی کی خودکار ٹرانسپورٹ حکمت عملی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت 2030 تک دبئی کی 25 فیصد سفری سہولیات کو خودکار بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا:
"خودکار ٹیکسیوں کا آپریشن پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو مربوط بنانے، شہریوں کو ان کے آخری مقامات تک باآسانی پہنچانے، اور ‘فرسٹ اینڈ لاسٹ مائل’ حکمت عملی کے تحت سہولت فراہم کرنے میں مدد دے گا۔ یہ نظام رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے سفر کو محفوظ، آرام دہ اور تیز بنائے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ خودکار نقل و حرکت اب محض تصور نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے، جہاں دنیا بھر کی کمپنیاں تیزی سے نئی ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر پر کام کر رہی ہیں جبکہ حکومتیں بنیادی ڈھانچے، قانون سازی اور ضوابط کو اپنانے میں سرگرم ہیں۔

Pony.ai کے CFO ڈاکٹر لیو وانگ نے اس شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"دبئی RTA کے ساتھ تعاون ہمارے لیے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کے خطے میں لیول 4 خودکار ٹیکنالوجی کے نفاذ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم RTA کی قیادت کے ساتھ مل کر ایک ذہین سفری نظام کے بنیادی اصول متعین کر رہے ہیں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button