
خلیج اردو
دبئی میں رہائش پذیر این کے نے جب ایک معروف ویب سائٹ پر اپنا استعمال شدہ کافی ٹیبل فروخت کرنے کا اشتہار دیا، تو وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک جدید دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے ہیں۔ دوسرے ہی دن ایک خاتون نے واٹس ایپ پر رابطہ کر کے ٹیبل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی، اور قیمت طے ہونے کے بعد اس نے ‘کریم ڈیلیوری’ کے ذریعے ٹیبل منگوانے کا کہا۔
خاتون نے این کے سے کہا کہ وہ ایک لنک پر کلک کر کے اپنا کارڈ نمبر درج کریں تاکہ ادائیگی کی جا سکے۔ این کے نے جیسے ہی معلومات فراہم کیں، فوراً ان کے اکاؤنٹ سے 2500 درہم نکال لیے گئے۔ اگرچہ انہوں نے فوری طور پر اپنا کارڈ بلاک کروا دیا اور بینک میں شکایت بھی درج کروائی، لیکن نقصان ہو چکا تھا۔
یہ واقعہ دبئی اور متحدہ عرب امارات میں تیزی سے پھیلنے والے ایک نئے فراڈ کی مثال ہے، جس کے بارے میں بدھ کے روز کریم کمپنی نے باضابطہ انتباہ جاری کیا ہے۔ کریم کے مطابق، کئی صارفین کو اس دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور کچھ افراد نے تو 10 ہزار درہم تک کے قریب نقصان کی اطلاع دی ہے۔
فراڈ کا طریقہ کار
یہ اسکیم خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بناتی ہے جو آن لائن پرانی اشیاء فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ فراڈیے خریدار بن کر رابطہ کرتے ہیں اور رقم براہِ راست کارڈ پر بھیجنے کی پیشکش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک جعلی لنک بھیجا جاتا ہے جس میں کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی مکمل تفصیلات بشمول CVV درج کرنے کو کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی معلومات فراہم کی جاتی ہیں، فراڈیے اکاؤنٹ سے رقم نکال لیتے ہیں اور اپنا نمبر بلاک کر دیتے ہیں۔
کریم کا مؤقف
کریم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ ‘کریم ڈیلیوری’ کے نام سے کوئی سروس فراہم نہیں کرتی۔ ان کے مطابق صرف ‘کریم باکس’ سروس موجود ہے، جو دبئی میں محدود پیمانے پر چھوٹی اشیاء کی ترسیل یا کسی دکان سے سامان خرید کر صارف تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ یہ اسکیم اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ فراڈیے ایک ایسی ویب سائٹ استعمال کر رہے ہیں جو ظاہری طور پر careem.com جیسی دکھتی ہے، لیکن کلک کرنے پر صارف کو جعلی ویب سائٹ پر لے جاتی ہے۔
اہم انتباہات اور سرخ جھنڈے
کریم نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ:
-
کریم کی تمام خدمات صرف آفیشل ایپ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
-
کسی بھی غیر معروف یا تھرڈ پارٹی ویب سائٹ سے احتیاط برتیں۔
-
غیر معمولی ادائیگی کے تقاضے یا پاپ اپ اشتہارات پر توجہ دیں۔
-
URL میں ہجے کی غلطیوں سے ہوشیار رہیں۔
متحدہ عرب امارات کی اتھارٹیز بھی مسلسل عوام کو خبردار کرتی رہی ہیں کہ وہ اپنا کارڈ نمبر، OTP یا کوئی بھی ذاتی مالی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ ماضی میں بعض افراد اس نوعیت کی دھوکہ دہی میں 200,000 درہم تک کھو بیٹھے ہیں۔







