
خلیج اردو
دبئی نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے فوڈ ٹرینڈ کو فوراً اپنا لیا ہے۔ ڈالگونا کافی، ٹشو بریڈ اور دبئی چاکلیٹ کے بعد اب جاپانی ’’نو بیک چیزکیک‘‘ شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ نو بیک چیزکیک روایتی جاپانی سوفلے چیزکیک سے مختلف ہے، جس میں اوون یا پیچیدہ تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس ڈیزرٹ میں صرف دو اجزا، گاڑھا دہی اور بسکٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس طریقۂ تیاری میں بسکٹ (جیسے بسکوف یا ڈائجسٹو) کو یونانی یا اسکر دہی میں رکھ کر برتن بند کیا جاتا ہے اور چند گھنٹوں یا رات بھر کے لیے فریج میں رکھا جاتا ہے، جس سے بسکٹ نرم ہو کر دہی کے ساتھ گاڑھی ساخت اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ رجحان جاپان کے سوشل میڈیا سے شروع ہوا، جہاں صارفین نے دہی میں بسکٹ جما کر ویڈیوز شیئر کیں، جو بعد ازاں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر لاکھوں ویوز کے ساتھ وائرل ہو گئیں۔
دبئی میں بھی رہائشیوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز نے اس ٹرینڈ کو آزمانا شروع کر دیا ہے۔ ایک دبئی رہائشی نے ویڈیو میں کہا،
“یہ ویڈیوز اتنی بار سامنے آئیں کہ میں دفتر کے بعد فوراً یہ دو اجزا خریدنے آ گیا۔”
فوڈ اور لائف اسٹائل کریئیٹرز کے مطابق یہ ڈیزرٹ مصروف شہری زندگی کے لیے موزوں ہے، کیونکہ یہ جلد تیار ہو جاتا ہے اور کسی خاص آلات کی ضرورت نہیں پڑتی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دبئی میں تیزی سے مقبول ہونے والے فوڈ ٹرینڈز عموماً گھروں سے کیفے مینو تک پہنچ جاتے ہیں، اور جاپانی نو بیک چیزکیک بھی جلد مقامی کیفے کلچر کا حصہ بن سکتا ہے۔







