
خلیج اردو
دبئی کی بڑھتی آبادی نئی رہائشی سپلائی کو جذب کر رہی ہے، خاص طور پر وہ افراد جو یو اے ای کو طویل مدت کے لیے اپنا دوسرا گھر بنا رہے ہیں، جبکہ سرمایہ کاری کا رجحان بھی برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اوور سپلائی کے خدشات موجود ہیں، تاہم یہ مسئلہ پورے مارکیٹ میں یکساں نہیں بلکہ مخصوص علاقوں اور یونٹس تک محدود ہے، جہاں طلب نسبتاً کمزور ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسٹوڈیو اور ایک بیڈ روم اپارٹمنٹس کے کرایوں اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، خاص طور پر پانچ علاقوں میں، جن میں جے وی سی / جے وی ٹی، دبئی ساؤتھ، محمد بن راشد سٹی، بزنس بے اور دبئی لینڈ ریزیڈنس کمپلیکس شامل ہیں۔
رئیل اسٹیٹ کنسلٹنسی ہاؤس اینڈ ہاؤس کے مطابق،
“آبادی میں اضافہ طلب کو سہارا دے رہا ہے، جس کے باعث نئے مکمل ہونے والے یونٹس کو اینڈ یوزرز جذب کر رہے ہیں، جبکہ رہائشی لیزنگ ویلیو میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔”
کشن مین اینڈ ویک فیلڈ کور کی ریسرچ ہیڈ پرتھیوشا گُراپو نے کہا،
“گزشتہ 12 ماہ میں دبئی کی آبادی میں 2 لاکھ 8 ہزار سے زائد افراد کا اضافہ ہوا، جو 5.2 فیصد ترقی کی عکاسی کرتا ہے، یہ اضافہ قیاس آرائی کے بجائے حقیقی آبادیاتی نمو کا نتیجہ ہے۔”
اعداد و شمار کے مطابق شہر بھر میں جائیداد کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مسلسل 22 سہ ماہیوں سے جاری ترقی کا تسلسل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 سے 2030 کے دوران 4 لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس زیر تعمیر یا اعلان شدہ ہیں، جن میں سے تقریباً 45 فیصد انہی پانچ علاقوں میں واقع ہیں، جبکہ 66 فیصد آنے والی سپلائی اسٹوڈیو اور ایک بیڈ روم اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے۔
ماہرین کے مطابق اپارٹمنٹس کی زیادہ سپلائی کے مقابلے میں ولاز اور ٹاؤن ہاؤسز کی طلب مضبوط رہنے کا امکان ہے، جس سے ان کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی کی رہائشی جائیداد مارکیٹ اب تیز رفتار ترقی کے مرحلے سے نکل کر معمول کی سطح کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں قیمتوں میں کمی کا خدشہ پورے مارکیٹ کے بجائے مخصوص علاقوں اور یونٹس تک محدود رہے گا۔







