
خلیج اردو
دبئی: دبئی اگلے سال ایک بین الاقوامی پبلک ٹرانسپورٹ سمٹ کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد عالمی تعاون، پالیسی سازی اور جدید حلوں کے ذریعے شہری نقل و حرکت کے مستقبل کو تشکیل دینا ہے۔
یہ عالمی اجلاس 21 سے 23 اپریل 2026 تک دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقد ہوگا۔ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے مطابق، یہ سمٹ ’’پائیدار، اسمارٹ اور عوام دوست ٹرانسپورٹ نظام‘‘ کے قیام پر مرکوز ہوگی۔
اگلے سال دبئی میں خودکار (ڈرائیور لیس) ٹیکسیاں اور اُڑنے والی ٹیکسیاں متعارف کرائی جائیں گی۔ آر ٹی اے کے پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو احمد ہاشم بہروزیان نے کہا کہ ’’ہمارا عزم ہے کہ ایئر ٹیکسی سروسز جلد شروع کی جائیں، ہم اس وقت یہ طے کر رہے ہیں کہ ان منصوبوں کو سمٹ کے دوران کس طرح پیش کیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ منصوبے اب مستقبل کی بات نہیں رہے کیونکہ یہ حقیقت بن چکے ہیں۔ دبئی ان شعبوں میں رہنمائی کے ذریعے سیکھنے اور دیگر شہروں کے لیے راستہ متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
بہروزیان نے کہا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ مستقبل کی ٹرانسپورٹ کے چیلنجز کا جدید حل تلاش کیا جائے، کیونکہ آج کے مسائل کے لیے 10 یا 15 سال پرانے طریقے مؤثر نہیں رہ گئے۔‘‘
آر ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے چیئرمین مطر الطائر نے کہا کہ دبئی کی میزبانی اس کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ پائیدار، اسمارٹ اور عوامی ضروریات پر مبنی ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ میں عالمی رہنما بننا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دبئی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی شرح 2006 میں 6 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 21.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
یو آئی ٹی پی (International Association of Public Transport) کے سیکرٹری جنرل محمد مزغانی نے کہا کہ ’’2026 کا اجلاس دبئی کے لیے ایک سنگ میل ہوگا، کیونکہ 2011 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شہر ایک بار پھر عالمی ٹرانسپورٹ سمٹ کی میزبانی کرے گا۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دبئی یورپ سے باہر پہلا شہر ہوگا جو اس سمٹ کو نئے فارمیٹ میں منعقد کرے گا، اور توقع ظاہر کی کہ دنیا بھر سے آنے والے مندوبین دبئی کی جدید شہری ٹرانسپورٹ کے تجربات سے سیکھ سکیں گے۔







