
خلیج اردو
دبئی: عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں غیرمعمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جو گذشتہ ہفتے سے مسلسل نئی بلندیاں چھو رہی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سونے کی قیمت 3,500 امریکی ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی ہے۔
منگل کے روز یہ رجحان جاری رہا، جب دبئی اور دنیا بھر میں سونے کی قیمت مزید 5 فیصد اضافے کے بعد 3,480 ڈالر فی اونس سے بھی آگے بڑھ گئی۔ دبئی میں 24 قیراط سونے کی قیمت 420 درہم فی گرام تک جا پہنچی، جو صرف 24 گھنٹوں میں تقریباً 15 درہم کا اضافہ ہے۔
اسی طرح 22 قیراط سونا 388.75 درہم فی گرام پر پہنچا، جو پیر کی صبح کے مقابلے میں 13 درہم زیادہ ہے۔
21 قیراط اور 18 قیراط سونا بالترتیب 372.75 اور 319.5 درہم فی گرام پر فروخت ہوا۔
سپاٹ گولڈ اس وقت 3,480.22 ڈالر فی اونس پر تجارت کر رہا ہے، جو امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی کے باعث بڑھا ہے۔ صبح 9:20 بجے یو اے ای وقت کے مطابق قیمت میں 4.74 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ کچھ دیر قبل یہ 3,485 ڈالر فی اونس سے بھی تجاوز کر چکا تھا۔
مالیاتی اداروں اور تحقیقاتی تنظیموں نے اپنے تخمینوں میں سونے کی قیمت 3,500 ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی کشیدگی برقرار رہی تو رواں سال ہی یہ قیمت 4,000 ڈالر تک جا سکتی ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دبئی کے تجزیہ کار اور سناروں کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمتیں فی الحال بلند سطح پر رہیں گی اور اس میں کسی بڑی کمی کا امکان نہیں ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کی بھارت میں ریسرچ افسر کویتا چاکو کا کہنا ہے کہ "کمزور امریکی ڈالر، تجارتی ٹیکسوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگیاں سونے کی قیمت میں اضافے کے بڑے عوامل ہیں۔ ساتھ ہی مختلف خطوں میں گولڈ ای ٹی ایف کی بڑھتی ہوئی خریداری نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتوں میں سیزن اور شادیوں سے متعلق خریداری سونے کی طلب میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔







