
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی 17 سالہ زمزم الحمادی نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ پروفیشنل فائٹرز لیگ (PFL) کے ساتھ معاہدہ کرنے والی پہلی اماراتی لڑکی بن گئی ہیں۔ مقامی سطح سے بین الاقوامی میدان تک کا ان کا سفر صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نسل کی امیدوں، ثقافتی میراث اور نئی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔
زمزم کہتی ہیں، "جب مجھے معاہدے کی خبر ملی تو ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوں — مقامی مقابلوں سے عالمی سطح تک۔ یہ صرف میری نہیں، پورے ملک کی کامیابی ہے۔ دنیا نے اب اماراتی خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔”
ان کی اس کامیابی کے پیچھے کئی سال کی محنت، قربانیاں اور خاندان کی حوصلہ افزائی کارفرما ہے۔ زمزم کی والدہ، ندا النعیمی، جنہوں نے نہ صرف سماجی دباؤ بلکہ کینسر جیسے مرض کا بھی سامنا کیا، اپنی بیٹی کی اس کامیابی پر اشک بار ہو گئیں۔ زمزم نے بتایا، "امی نے کہا: تم نے صرف ہمارا نہیں، پورے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ان شاء اللہ تم دنیا میں وہ نام بنو گی جسے کوئی بھول نہیں سکے گا۔”
روایات سے بغاوت اور حوصلے کی مثال
زمزم کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن غلہ بھی ایم ایم اے میں سرگرم ہے۔ دونوں بہنوں نے سالوں تک ایک ساتھ تربیت حاصل کی، ناکامیوں سے سیکھا اور مقابلوں میں جیت کا جشن منایا۔ زمزم کا کہنا ہے، "شاید ایک دن غلہ مجھ سے آگے نکل جائے، اور میں فخر سے اسے سراہوں گی۔”
پروفیشنل سطح پر قدم رکھنا
پروفیشنل فائٹرز لیگ میں شمولیت کا مطلب ہے کہ اب زمزم صرف ایک کھلاڑی نہیں، بلکہ مکمل ٹیم، جدید تربیت، غذائیت، ذہنی مشاورت اور حکمتِ عملی کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تربیت صرف طاقت کا کھیل نہیں رہا بلکہ مکمل نظم و ضبط، ذہنی استقامت اور تکنیکی مہارت کا معاملہ ہے۔
زمزم نے واضح کیا، "میں وہ فائٹر بننا چاہتی ہوں جو نہ صرف دل سے لڑے بلکہ ہوشیار، نڈر اور ٹیکنیکل بھی ہو۔”
قومی حمایت اور خوابوں کی تعبیر
PFL کے ساتھ معاہدے کے بعد جو چیز زمزم کو سب سے زیادہ حیران کن لگی، وہ ملک بھر سے ملنے والی بھرپور حمایت ہے۔ "یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ میری قوم واقعی چیمپیئنز بنانے میں سنجیدہ ہے۔”
اس تاریخی لمحے سے پہلے زمزم اور غلہ نے قومی و بین الاقوامی سطح پر ایمیچور مقابلوں میں کئی اعزازات حاصل کیے۔ زمزم نے یوکرین کی دو بار کی چیمپیئن کو شکست دی، جبکہ غلہ نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں تیز ترین سبمیشن کا ریکارڈ بنایا۔
نئی نسل کے لیے مشعل راہ
زمزم کے لیے اصل کامیابی صرف اعزازات نہیں، بلکہ نئی نسل کے لیے مثال بننا ہے۔ وہ کہتی ہیں، "چاہے آپ کا خواب رِنگ میں ہو، کلاس روم میں یا کہیں اور، بس ڈر کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ آپ کے اندر نسلوں کی طاقت ہے، اور مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔”
زمزم کا یہ خواب اب صرف ان کا نہیں رہا۔ ان کی کہانی ایک نئی نسل کو جرات اور حوصلہ دے رہی ہے کہ وہ صرف سوچیں نہیں، عمل کریں — اور یقین رکھیں کہ وہ بھی کر سکتی ہیں، اور کریں گی۔







