متحدہ عرب امارات

جب ایک استاد نے نذیر کے رویے پر اسے تھپڑ مارا،دبئی: آٹزم کے شکار بالغ افراد کو خود اعتمادی اور خودمختاری کیسے مل رہی ہے؟

خلیج اردو
دبئی:
نذیر وسیم کے بچپن کی یادیں دھندلی ہیں، لیکن ان کی والدہ عظمٰی کو وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب ایک استاد نے نذیر کے رویے پر اسے تھپڑ مارا۔ برسوں بعد نذیر کو آٹزم کی تشخیص ہوئی۔ آج 31 سالہ نذیر ایک ہوٹل کی ملازمت میں مہارت حاصل کر رہا ہے اور شیف بننے کا خواب دیکھ رہا ہے — یہ سب "موہیب” سینٹر کی مدد سے ممکن ہوا ہے۔

"موہیب” بالغ خصوصی افراد کے لیے ایک ایسا مرکز ہے جہاں وہ زندگی کے بنیادی ہنر سیکھتے اور فن کے ذریعے اپنی شخصیت کا اظہار کرتے ہیں۔ نذیر نے بتایا: "مجھے اسکول کے کچھ لمحے یاد ہیں جب میرا رویہ دوسروں سے مختلف ہوتا، میں کارٹون کرداروں کی نقل کرتا تھا، جو دوسروں کو سمجھ نہ آتی۔” ان کے مطابق "موہیب” نے انہیں خود پر اعتماد کرنا سکھایا اور خودمختار زندگی گزارنے کا حوصلہ دیا۔

مرکز کی ڈائریکٹر ویمی ڈی ماکر کی رہنمائی میں، نذیر نے ہوٹل میں مہمانوں اور ساتھیوں سے میل جول سیکھا اور اب وہ خاندان کے گھر سے الگ اسٹاف رہائش میں مکمل آزادی سے رہتا ہے۔ وہ برگر اور فرائیڈ چکن بنانا پسند کرتا ہے اور ساتھ ہی آرٹ میں بھی مہارت رکھتا ہے۔

مرکز میں نذیر کے ساتھ 27 سالہ شان مک لینن بھی ہے جو تھائی لینڈ میں پیدا ہوا، آدھا چینی اور آدھا اسکاٹش ہے۔ شان بچپن سے ہی جانوروں کی تصویریں بناتا تھا، اس کی والدہ کے مطابق وہ ہر وقت پین ہاتھ میں رکھتا تھا۔ اگرچہ ابتدا میں آٹزم کی شناخت مشکل تھی، مگر وقت کے ساتھ مختلف تھراپی سے شان نے فن میں مہارت حاصل کی۔ اب وہ اپنی پینٹنگز کے ذریعے خود کو اظہار کرتا ہے اور نمائشوں میں شریک ہو کر اپنی پہچان بنا رہا ہے۔

18 سالہ ریحان کی والدہ، اناہیتا پٹیل نے بھی اپنے بیٹے کی تشخیص کے بعد کے کٹھن سفر کی تفصیل بیان کی۔ ریحان نے 2018 کی گرمیوں میں اپنے بچپن کی یادیں ایک ڈائری میں لکھنا شروع کیں، جس سے اس کی جذباتی دنیا سامنے آئی۔ دبئی منتقل ہونے کے بعد "موہیب” میں شمولیت نے ریحان کو ایک محفوظ، تخلیقی ماحول فراہم کیا جہاں وہ آرٹ کے ذریعے اپنے خیالات بیان کرتا ہے۔

نیو انگلینڈ سینٹر فار چلڈرن کلینک (NECC) دبئی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرسٹن بیکن نے بتایا کہ آج کارپوریٹ ادارے آٹزم کو محض ایک مرض نہیں بلکہ "نیورو ڈائیورسٹی” کے ایک قیمتی پہلو کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ ان کے مطابق ادارے ایسے افراد کی توجہ، باریکیوں پر نظر اور جدت کی صلاحیت کو سراہنے لگے ہیں۔

کمیونٹی ریلیشنز اسپیشلسٹ، ٹیفنی ہاؤلی کا کہنا ہے کہ آٹزم کے شکار افراد اکثر برابری کے مواقع چاہتے ہیں، انہیں کمتر سمجھا جانا یا ہمدردی کے بجائے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ معاشرتی سطح پر آگاہی مہمات ہی وہ راستہ ہیں جو معاشرتی روایات اور سچائی کے درمیان پل بنا سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button