متحدہ عرب امارات

دبئی میں روبوٹ ڈلیوری سروس میں توسیع، کھانے اور گروسری کی ترسیل 20 منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل

خلیج اردو
دبئی: دبئی میں روبوٹ کے ذریعے کھانے اور گروسری کی ڈلیوری کا تجربہ کامیاب رہا، جس کے بعد یہ سروس دیگر علاقوں تک پھیلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ینگو ٹیکنالوجی نے گزشتہ ماہ شوبھا ہارٹ لینڈ میں اس پائلٹ منصوبے کا آغاز کیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

ینگو ٹیک آٹونومی مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی سربراہ نیکیتا گاوریلوف کے مطابق، ’’جب لوگوں کو روبوٹ کے ذریعے ڈیلیوری کا آپشن دیا گیا، تو 40 فیصد سے زائد افراد نے اسے ترجیح دی۔ لوگ اس جدید، مکمل الیکٹرک روبوٹ کو 20 منٹ میں اپنی عمارت کے دروازے پر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔‘‘

یہ پائلٹ منصوبہ فوڈ ٹیک اور ریٹیل کمپنی روٹس اور دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کے اشتراک سے شروع کیا گیا، جس میں 2 کلومیٹر کے دائرے میں 30 منٹ سے کم وقت میں اشیاء کی ترسیل کا ہدف رکھا گیا۔ نیکیتا کے مطابق، روبوٹس نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی اور اب آرڈر سے لے کر صارف تک پہنچانے تک کا وقت 20 منٹ سے بھی کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "روٹس” کے ملازمین نے روبوٹ کے ساتھ کام کرنا آسان قرار دیا ہے۔ آرڈر بناتے ہیں، روبوٹ آتا ہے، ایک بٹن سے اس کا ڈھکن کھولتے ہیں، سامان رکھ کر روانہ کر دیتے ہیں۔

یہ روبوٹ پوڈ 60 لیٹر صلاحیت رکھتا ہے، 10 سینٹی میٹر تک کی اونچائی چڑھ سکتا ہے، سڑکیں عبور کرتا ہے اور راہگیروں کو راستہ دیتا ہے۔ اس میں 12 عدد 1.5 لیٹر کی پانی کی بوتلیں رکھی جا سکتی ہیں اور یہ اردگرد کی حرکت کو محسوس کر کے رُک بھی جاتا ہے، تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔

فی الوقت کمیونٹی میں دو روبوٹس کام کر رہے ہیں، جو آرڈر کے بعد فٹ پاتھ اور پیدل گزرگاہوں سے گزر کر صارف تک پہنچتے ہیں۔ صارف کو واٹس ایپ پر اطلاع ملتی ہے کہ روبوٹ پہنچ چکا ہے، جس کے بعد وہ عمارت کے داخلی دروازے پر جا کر سامان وصول کرتا ہے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی
نیکیتا نے مستقبل کے منصوبوں کی مکمل تفصیل تو نہیں دی، تاہم عندیہ دیا کہ ولا کمیونٹیز اس نظام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ چونکہ روبوٹ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا اور لفٹ استعمال نہیں کر سکتا، اس لیے صرف دروازے تک ڈیلیوری ممکن ہے۔ ولاز میں اس نظام کی توسیع زیادہ موثر ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی رکاوٹ مختلف کمپنیوں کو اس نظام کو اپنانے پر آمادہ کرنا ہے۔ ’’بعض کاروباری ادارے روبوٹ دیکھ کر اسے پیچیدہ تصور کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں اسے نافذ کرنا بہت آسان ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مزید کمپنیاں اس جانب راغب ہوں گی۔‘‘

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button