متحدہ عرب امارات

دبئی میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر، شہری حج، شادیوں اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے سونا بیچنے لگے

خلیج اردو
دبئی: دبئی میں سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد اب سونا خریدنے کے بجائے بیچنے کے لیے گولڈ سوق کا رخ کر رہی ہے۔ فی گرام قیمت 400 درہم تک جا پہنچی ہے جس سے کئی افراد کو سالوں پرانی سرمایہ کاری سے نفع حاصل ہو رہا ہے۔

الجداف کے رہائشی ابصار احمد نے بتایا کہ وہ اس سال حج کے لیے جا رہے ہیں اور اس کے اخراجات کا بڑا حصہ اس سونے سے پورا ہو رہا ہے جو انہوں نے کئی برسوں میں جمع کیا۔ ان کے مطابق، وہ ہر چھ ماہ بعد ایک تولہ سونا خریدتے رہے اور 2024 کے اختتام تک ان کے پاس آٹھ تولہ سونا جمع ہو گیا، جو انہوں نے اوسطاً 2,750 درہم فی تولہ خریدا۔ آج اسی تولے کی قیمت 4,668 درہم ہے، جس سے انہیں 15,000 درہم سے زائد منافع ہو رہا ہے۔

ابصار کی اہلیہ اور بچے بھی عیدی اور جیب خرچ سے سونے کے سکے بچاتے رہے، جو اب 50,000 درہم سے زیادہ کی مالیت کے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ چھوٹی بچت اتنی بڑی رقم بن جائے گی، اس لیے اب انہوں نے اسے حج جیسے بامقصد کام کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ امیت نے بتایا کہ وہ اپنی شادی کے اخراجات کے لیے سونا فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے دس برسوں میں دیوالی اور دیگر مواقع پر تھوڑا تھوڑا سونا خریدا، جس کا مجموعی وزن 154 گرام ہو گیا۔ اس پر 22,000 درہم کی لاگت آئی، اور اب وہی سونا 61,600 درہم میں فروخت ہو رہا ہے، یعنی تقریباً 39,000 درہم منافع۔

پاکستانی نژاد مومنہ اعظم، جو النہدہ دبئی میں مقیم ہیں، نے کورونا کے بعد سونا خریدنا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کل 69 گرام سونا جمع کیا، جسے وہ اب فی گرام تقریباً 400 درہم میں بیچ رہی ہیں، جس سے ان کی سرمایہ کاری دگنی ہو گئی۔ ان کے مطابق، اس رقم سے وہ اپنے کریڈٹ کارڈ کے قرضے چکائیں گی اور کچھ بچت کریں گی۔

دبئی گولڈ سوق کے تجربہ کار تاجر افنان سعدا کے مطابق، یہ رجحان عارضی نہیں بلکہ سوچ میں تبدیلی کی نشانی ہے۔ کورونا کے بعد لوگوں نے سونے کو صرف زیور نہیں بلکہ ایک اثاثہ سمجھنا شروع کیا۔ کئی افراد نے تہواروں پر چھوٹے سکے یا بارز خریدے جو اب بڑی رقم میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button