متحدہ عرب امارات

دبئی: کرائے کے فلیٹ کو قانونی طریقے سے شیئر کرنے کا طریقہ کار

خلیج اردو
سوال: میں ایک سنگل مدر ہوں جو دبئی میں کام کر رہی ہے اور اپنے لیے الگ اپارٹمنٹ کرائے پر لینے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ میں نے فلیٹ شیئرنگ کے اشتہارات دیکھے ہیں اور اس آپشن پر غور کر رہی ہوں۔ تاہم، میں یہ یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔ کیا دبئی میں فلیٹ شیئرنگ قانونی طور پر جائز ہے؟ اگر ہاں، تو اس کا درست قانونی طریقہ کیا ہے؟

جواب: دبئی میں کرائے پر حاصل کردہ کسی بھی رہائشی یونٹ کو مالک مکان کی تحریری اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کو سب لیٹ (sublet) کرنا قانوناً ممنوع ہے۔ دبئی کرایہ داری قانون کے آرٹیکل 24 کے مطابق، "جب تک کہ فریقین کے درمیان معاہدے میں کچھ اور طے نہ کیا گیا ہو، کرایہ دار کسی تیسرے فریق کو مالک مکان کی تحریری اجازت کے بغیر جائیداد سب لیٹ یا اس کا استعمال تفویض نہیں کر سکتا۔”

مزید برآں، اگر کوئی کرایہ دار مالک مکان کی اجازت کے بغیر رہائشی یونٹ کو کسی تیسرے فریق کو سب لیٹ کرتا ہے یا اسے کسی غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کرنے دیتا ہے تو مالک مکان کو کرایہ دار کو معاہدہ ختم ہونے سے پہلے نکالنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ دبئی کرایہ داری قانون کے آرٹیکل 25 (1) (b) اور (c) کے مطابق، ایسے حالات میں مالک مکان کرایہ دار اور سب کرایہ دار دونوں کو یونٹ خالی کرنے کا کہہ سکتا ہے۔

حالیہ عرصے میں دبئی میونسپلٹی، دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے فلیٹ شیئرنگ کے غیر قانونی اور غیر محفوظ طریقوں، خاص طور پر پارٹیشن کیے گئے کمروں کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان پارٹیشن شدہ یونٹس کو حفاظتی خطرہ قرار دیتے ہوئے ختم کیا جا رہا ہے اور کثیرالمنزلہ عمارتوں میں باقاعدگی سے معائنے کیے جا رہے ہیں۔

لہٰذا، اگر آپ فلیٹ شیئرنگ کا ارادہ رکھتی ہیں تو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

  • کسی پارٹیشن شدہ (Partitioned) یونٹ میں رہائش اختیار نہ کریں۔

  • فلیٹ کے مالک مکان یا بلڈنگ مینجمنٹ کمپنی سے تحریری اجازت نامہ (Written Consent) حاصل کریں جو واضح طور پر آپ کو دیگر افراد کے ساتھ فلیٹ شیئر کرنے کی اجازت دے۔

  • یہ اجازت دینا یا نہ دینا مکمل طور پر مالک مکان یا بلڈنگ مینجمنٹ کمپنی کے صوابدیدی اختیار پر منحصر ہوتا ہے۔

یہ تمام امور دبئی کے کرایہ داری قوانین کی مکمل تعمیل کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے تاکہ آپ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button