متحدہ عرب امارات

دبئی میں ای-سکوٹر اور سائیکلنگ کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والی نئی خصوصی یونٹ کا قیام

خلیج اردو
دبئی: دبئی میں ای-سکوٹرز اور سائیکلنگ سے متعلق خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے ایک نئی خصوصی یونٹ قائم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا اور سڑکوں پر حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ روڈ سیفٹی اور ڈرائیونگ ماہر مصطفیٰ الدح نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یونٹ عوام کو ایک واضح پیغام دے گی کہ جانوں کی حفاظت سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار کی دہائی میں جب پیدل چلنے والوں کی ہلاکتوں کی شرح 50 فیصد تھی، تو حکام نے مؤثر کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں غیرقانونی کراسنگز میں نمایاں کمی آئی۔ وہ پرامید ہیں کہ اسی طرح کی کاوشیں ای-سکوٹرز سے ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تعداد کو صفر تک لے آئیں گی۔

اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے ارجان کے رہائشی اطالوی انجینئر مارکو دانتے نے کہا کہ یہ نئی مہم لوگوں کو سڑک کے اصولوں کی پاسداری کی ترغیب دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رات کے وقت اہل خانہ کے ساتھ چہل قدمی کے دوران اکثر ایسے ای-سکوٹرز سے دوچار ہوتے ہیں جو روشنی یا بیل کے بغیر خطرناک حد تک قریب سے گزرتے ہیں۔

قواعد کے مطابق ای-سکوٹر سواروں کو صرف مخصوص لینز استعمال کرنی چاہیے، مسافر یا متوازن حرکت میں رکاوٹ ڈالنے والا سامان نہیں لے جانا چاہیے، ٹریفک کے مخالف سمت میں نہیں چلنا چاہیے، اور حفاظتی ہیلمٹ سمیت دیگر گیئرز کا استعمال ضروری ہے۔ ان قواعد کی خلاف ورزی پر 300 درہم تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال دبئی میں ای-سکوٹر اور سائیکلنگ سے متعلق تقریباً 40,000 خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں۔

سابق ای-سکوٹر صارف فاہمہ مصطفیٰ نے بتایا کہ انہوں نے دو سال قبل نوکری کے آغاز پر ای-سکوٹر استعمال کیا، لیکن لائسنس حاصل کرنے اور گاڑی خریدنے کے بعد استعمال ترک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ای-سکوٹرز کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، مگر حادثات بھی بڑھ گئے ہیں، اور حفاظت سے متعلق آگاہی میں کمی آ رہی ہے۔

فاہمہ نے خصوصی یونٹ کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ثابت کرے گا کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اور عوام کو یاد دلائے گا کہ ای-سکوٹرز بھی سڑک پر موجود کسی بھی گاڑی کی طرح خطرناک ہو سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button