متحدہ عرب امارات

مجید الفطیم گروپ کی جانب سے حصص کی فروخت یا ملکیت میں تبدیلی کی خبروں کی تردید

خلیج اردو
دبئی: دبئی کے معروف کاروباری ادارے مجید الفطیم ہولڈنگ نے جمعرات کو جاری بیان میں اپنے حصص کی فروخت یا ملکیت و نظم و نسق میں کسی بھی تبدیلی سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نگران حکام نے گروپ کے مستقبل سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا تھا، جن میں حصص کی فروخت، ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) اور کاروباری یونٹس کی فروخت شامل تھیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’مجید الفطیم کسی بھی طرح کے حصص یا کاروباری اثاثوں کی فروخت، یا انتظامی و ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی کی خبروں کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ ایسی تمام رپورٹس غیر درست، بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔‘‘

دبئی حکومت نے بانی مجید الفطیم کے انتقال کے بعد کمپنی کے بورڈ کی ازسرنو تشکیل اور قیادت کی منتقلی کو ہموار بنانے کے لیے خصوصی عدالتی کمیٹی قائم کی تھی۔

یاد رہے کہ 2021 میں اماراتی ارب پتی مجید الفطیم انتقال کر گئے تھے، جنہوں نے عالمی شہرت یافتہ گروپ کی بنیاد رکھی۔

مجید الفطیم گروپ مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے خاندانی کاروباری اداروں میں شمار ہوتا ہے، جس کے شعبہ جات میں ریٹیل، مہمان نوازی، رئیل اسٹیٹ، تفریح اور سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ کمپنی کے تحت 29 مالز ہیں جنہیں سالانہ 17 کروڑ 80 لاکھ سے زائد گاہک وزٹ کرتے ہیں۔ معروف برانڈز میں مال آف دی امارات، سٹی سینٹر، متاجر اور دیگر شامل ہیں۔ کمپنی کے ہوٹل پورٹ فولیو میں کیمپنسکی، شیریٹن مال آف دی امارات اور پل مین سٹی سینٹر دیرا جیسے سات ہوٹل شامل ہیں۔

بیان کے مطابق، ’’مجید الفطیم گروپ مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کی معیشتوں کا ایک مضبوط ستون ہے۔ ہم اپنے شیئر ہولڈرز اور آزاد بورڈ کی مکمل حمایت کے ساتھ واضح حکمتِ عملی کے تحت چوتھی دہائی اور اس سے آگے کے لیے ترقی کے سفر پر گامزن ہیں۔ ہمارے نظم و نسق، حصص داری یا کمپنی کے ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔‘‘

بدھ کے روز کمپنی نے ایک ہائبرڈ بانڈ بھی جاری کیا جس کی طلب مقررہ حجم سے ساڑھے پانچ گنا زائد رہی، بانڈ 5.75 فیصد شرحِ منافع پر جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق، ’’عالمی سرمایہ کاروں کی زبردست دلچسپی مجید الفطیم گروپ کی مضبوط بنیادوں اور محتاط مالی حکمتِ عملی پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔‘‘

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button