ٹیکنالوجی

دنیا کا اگلا بحران؟ اگر فرق ختم نہ ہوا تو اربوں لوگ مصنوعی ذہانت کے ثمرات سے محروم رہ جائیں گے

 

خلیج اردو
ابوظہبی — متحدہ عرب امارات نے مصنوعی ذہانت (AI) کی اپنی حکمتِ عملی کو عالمی کوششوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کمپیوٹنگ پاور اور ڈیٹا تک رسائی آئندہ معاشی مواقع کو اسی طرح طے کرے گی جیسے ماضی میں توانائی تک رسائی نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کے درمیان فرق پیدا کیا تھا۔

ابوظہبی میں قائم کمپنی G42 کے گروپ چیف گلوبل افیئرز آفیسر طلال الکاعسی نے کہا، "ہم اس ڈیجیٹل تقسیم کے متحمل نہیں ہو سکتے جیسے کبھی توانائی کی تقسیم نے آج کے عالمی جنوب کو متاثر کیا۔”

انہوں نے کہا، "خوشحالی کا انحصار توانائی تک رسائی پر ہے۔ آج بھی 77 کروڑ افراد بجلی تک رسائی سے محروم ہیں، اور اگر انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کو شامل کریں تو یہ تعداد تقریباً 2.9 ارب تک پہنچتی ہے۔ مزید اگر ڈیجیٹل مہارت سے محروم افراد کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد 3.9 ارب ہو جاتی ہے۔ یعنی دنیا کی آدھی آبادی اس وقت تک مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل نہیں کر سکتی جب تک ہم یہ خلیج ختم نہیں کرتے۔”

G42 نے اس کے حل کے طور پر “انٹیلی جنس گرڈ” کا تصور پیش کیا ہے جو بجلی کے گرڈ کے اصول پر مبنی ہے۔ طلال الکاعسی نے وضاحت کی، "جیسے بجلی کے لیے گرڈ، پاور اسٹیشن، سب اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز درکار ہوتی ہیں، اسی طرح ذہانت (intelligence) کے لیے بھی ایک گرڈ درکار ہے، تاکہ اسے اسی طرح عام رسائی حاصل ہو جیسے بجلی کو ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کے تحت متحدہ عرب امارات صرف صارف نہیں بلکہ فراہم کنندہ کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کر رہا ہے۔ "یو اے ای میں ایسے مراکز کے ذریعے ہم روزانہ اربوں کھربوں ڈیجیٹل ٹوکنز پیدا کر کے انہیں تین ہزار دو سو کلومیٹر کے دائرے میں برآمد کر سکیں گے، جس میں لیٹنسی صرف 60 ملی سیکنڈ سے کم ہوگی۔ اس طرح یو اے ای دنیا کی نصف آبادی کو براہِ راست سروس فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔”

خلیج، مصنوعی ذہانت کا نیا عالمی مرکز
پالیسی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ واشنگٹن میں قائم "سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز” کی مڈل ایسٹ پروگرام ڈائریکٹر مونا یعقوبیان کے مطابق، خلیجی ممالک میں مصنوعی ذہانت کی ترقی دراصل اس خطے کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے نئے زاویے کو ظاہر کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button