
خلیج اردو
دبئی: دبئی کی عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعے آن لائن ہتک عزت اور توہین کے الزام میں ایک شہری کو سزا سناتے ہوئے اس پر انٹرنیٹ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ جرم میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔
کیس نمبر 23499/2024 کے تحت ایک کارپوریٹ پروفیشنل کی جانب سے مقدمہ درج کرایا گیا تھا، جسے اکتوبر 2023 میں دبئی کے علاقے الصفوح 2 میں واقع ایک دفتر میں واٹس ایپ پر توہین آمیز اور شہرت کو نقصان پہنچانے والے پیغامات موصول ہوئے تھے۔
تحقیقات کے دوران حکام نے پیغامات کے ترجمہ شدہ نسخے کا جائزہ لیا، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور ابتدائی بیانات کا تجزیہ کیا۔ ملزم نے پیغامات بھیجنے کا اعتراف کیا تاہم اس کا مؤقف تھا کہ یہ پیغامات پہلے کی گئی الزامات کے ردعمل میں بھیجے گئے تھے۔ عدالت نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ جواز ہتک عزت اور توہین کے قانونی دائرے کو ختم نہیں کر سکتا۔
عدالت نے 24 اپریل 2025 کو ملزم پر ایک ماہ کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی، توہین آمیز پیغامات تمام ڈیوائسز اور ریکارڈز سے حذف کرنے کا حکم دیا، جرم میں استعمال ہونے والا موبائل فون ضبط کر لیا اور 5,000 درہم کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ اس فیصلے پر یکم مئی 2025 کو عمل درآمد کیا گیا جبکہ ملزم پر دوران سماعت سفری پابندی بھی نافذ رہی۔
قانونی مشیر ویشال تنانی نے کہا کہ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز قانون سے بالاتر نہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت ہتک عزت صرف عوامی سطح پر نشر کرنے تک محدود نہیں، نجی چیٹس میں کی جانے والی توہین آمیز گفتگو بھی فوجداری مقدمات کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر جب مواد اخلاقی طور پر قابل اعتراض یا ذاتی توہین پر مبنی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی اور ڈیوائس ضبطگی جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ عدلیہ ایسے جرائم میں ٹیکنالوجی سے متعلق مخصوص سزائیں دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ پابندی ملزم کے نام پر رجسٹرڈ کسی بھی نئی سم کے ذریعے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کو بھی روکتی ہے۔
یہ مقدمہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ڈیجیٹل گفتگو اور نجی پیغامات بھی قانونی دائرے میں آتے ہیں اور اگر ان کا مواد قانونی یا اخلاقی حدود پار کرے تو ان پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ واٹس ایپ جیسے میسیجنگ پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو بھیجے گئے ذاتی پیغامات بھی ہتک عزت کے قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔







