خلیج اردو آن لائن:
دبئی میں ایک مینجر کو گزشتہ سال اپنے گھر میں دیوالی کی پارٹی کے دوران اپنی خاتون ساتھی ورکر کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔
دبئی کی ابتدائی عدالت کو دوران ٹرائل بتایا گیا کہ 32 سالہ بھارتی خاتون نے گواہی دی ہے گزشتہ سال نومبر میں اس نے بر دبئی کے علاقے میں مدعی مینجر کے گھر میں دیوالی کی پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔
تاہم، مہمانوں کے چلے جانے کے بعد مینجر نے اسکا بوسہ لیا اور اسے جنسی عمل پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
ریکارڈ کے مطابق خاتون نے بتایا کہ ” پارٹی میں تقریبا 40 لوگ تھے، تاہم، جب مہمان جانے لگے تو مدعا علیہ نے اسے 20 منٹ زیادہ رکنے کے لیے کہا”۔
جس کے بعد مدعالیہ خاتون کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا اور شراب نوشی کرنے لگا اور پھر خاتون کا ہاتھ پکڑ لیا۔ خاتون نے بتایا کہ "مدعاعلیہ اسے ہونٹوں پر بوسہ کرنے کی کوشش کی جس پر میں نے اسے پیچھے دکھیل دیا، اس کے باوجود مدعاعلیہ نے مجھ جنسی عمل کی خواہش ظاہر کی”۔
تاہم، اس کے بعد مدعاعلیہ نے خاتون کو جانے دیا اور اسے آفر کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا۔
جس کے بعد خاتون وہاں سے چلی گئی اور اگلے دن اس نے بر دبئی پولیس تھانے میں مدعا علیہ کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔
متاثرہ خاتون کا دعویٰ تھا کہ مدعا علیہ شراب کے نشے میں تھا۔
تاہم عدالت نے مدعاعلیہ کو الزامات سے بری قرار دے دیا ہے۔ اور اس فیصلے کے خلاف 15 دن میں اپیل کی جاسکتی ہے۔
Source: Gulf News







