
خلیج اردو
دبئی میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر، زارا عطا، چار ماہ سے زائد عرصے سے دبئی اسپتال کے آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ زارا کو مئی میں حلق میں تکلیف محسوس ہوئی، جسے وہ عام کھانسی سمجھتی رہیں، مگر 22 مئی کو وہ جی جی آئی سی او میٹرو اسٹیشن پر گر پڑیں اور اسپتال منتقل کی گئیں۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق زارا کو پھیپھڑوں کا سنگین فنگل انفیکشن ایسپرجلَس ہوا، جس نے دونوں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہیں وینٹی لیٹر اور بعدازاں ای سی ایم او مشین پر منتقل کیا گیا، جو دل اور پھیپھڑوں کی عارضی کارکردگی سنبھالتی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کے پھیپھڑوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ ان کی بقا کیلئے ڈبل لنگ ٹرانسپلانٹ ناگزیر ہے، جس پر کم از کم 12 لاکھ درہم لاگت آئے گی۔
زارا کی ماں شائستہ طاہر، جو دبئی ویزٹ ویزا پر ہیں، نے جذباتی انداز میں اپیل کی ہے کہ "میری بیٹی نے اپنی زندگی یو اے ای کے عوام کی خدمت کیلئے وقف کی، آج وہ خود زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ میں حکام، فلاحی اداروں اور اہل خیر سے اپیل کرتی ہوں کہ اس کی زندگی بچانے میں مدد کریں۔”
زارا کی عمر 32 برس ہے اور انہوں نے 19 ستمبر کو اپنی سالگرہ اسپتال میں منائی۔ آئی سی یو ٹیم نے ان کے بستر کو سجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے دوستوں اور خاندان نے بھی ساتھ دیا۔
ان کے قریبی ساتھی ڈاکٹر ابراہیم خان نے کہا کہ "زارا ہمیشہ دوسروں کے لئے سہارا اور روشنی رہی ہیں، اب انہیں ہماری ضرورت ہے۔ ہم دعا اور امید کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
ڈاکٹرز کے مطابق زارا مکمل ہوش و حواس میں ہیں، ردعمل دے رہی ہیں، اور فزیوتھراپی کے ذریعے بحالی کی کوشش جاری ہے۔ تاہم ان کے پھیپھڑے اب بھی کام نہیں کر پا رہے اور ای سی ایم او مشین پر انحصار ہے۔ ان کی جان بچانے کیلئے فوری لنگ ٹرانسپلانٹ درکار ہے، جس کیلئے مالی وسائل کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔






