متحدہ عرب امارات

دبئی: ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز میں مسافروں کا "خوفناک” تجربہ، ایئرلائن کا ردعمل

خلیج اردو
دبئی:دبئی سے جے پور جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز میں سوار مسافروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کئی گھنٹوں تک طیارے میں بغیر ایئر کنڈیشننگ، پانی اور کھانے کے بند رکھا گیا، جس پر سوشل میڈیا پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا ہے اور پرواز میں تاخیر کے دوران مسافروں سے سلوک پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

پرواز IX-196 جو 13 جون کو شام 7 بج کر 25 منٹ پر دبئی سے روانہ ہونی تھی، ایئرلائن کے مطابق کچھ فضائی حدود کی بندش کے بعد ایئر ٹریفک کنجیشن کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی۔ تاہم، مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر کسی سہولت کے طیارے میں گھنٹوں بٹھا دیا گیا۔

مسافروں کی شکایات
سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ڈائیٹیشین ارضو سیٹھی نے ایک ویڈیو شیئر کی جو اب وائرل ہو چکی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ مسافر گرمی سے بے حال ہو کر حفاظتی کارڈز سے خود کو پنکھا کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہیں، "ہم بار بار کریو کو بلا رہے ہیں مگر کوئی آتا ہی نہیں۔ اے سی بند ہے، میرا تین سالہ بیٹا پسینے میں شرابور ہے۔”

انہوں نے مزید کہا: "اگر جہاز میں تکنیکی خرابی تھی تو ہمیں ٹرمینل میں انتظار کرنے دیا جاتا، مگر ہمیں بند کر دیا گیا۔ یہ ایک خطرناک صورتحال تھی۔”

ایک اور مسافر نے شکایت کی: "سانس لینا مشکل ہو رہا ہے، نہ اے سی چل رہا ہے اور نہ ہی کوئی پانی دے رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہمیں اذیت دی جا رہی ہو۔”

یہ پرواز بالآخر رات 12:44 پر روانہ ہوئی اور 14 جون کو صبح 2:44 بجے جے پور پہنچی۔

ایئرلائن کا مؤقف
ایئر انڈیا ایکسپریس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کو پانچ گھنٹے طیارے میں نہیں رکھا گیا۔ ان کے مطابق، بورڈنگ 10:44 بجے شروع ہوئی اور جہاز 12:09 بجے روانگی کے لیے تیار ہوا، یعنی مسافر تقریباً 1 گھنٹہ 25 منٹ تک جہاز میں موجود تھے۔

ایئرلائن کے بیان میں مزید کہا گیا کہ مسافروں کو نئی روانگی کے وقت سے پہلے واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے اطلاع دے دی گئی تھی، تاکہ وہ وقت پر ایئرپورٹ پہنچ سکیں۔ انتظار کے دوران ٹرمینل میں کھانے اور ریفریشمنٹس کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

جہاز میں گرمی کی شکایت پر ایئرلائن نے کہا کہ گراؤنڈ پر کھڑے طیارے کے دروازے کھلے ہونے کی صورت میں گرم موسم میں ایئر کنڈیشننگ کا اثر محدود ہو سکتا ہے، جو عام بات ہے۔ تاہم، جہاز روانہ ہوتے ہی کیبن کریو نے مسافروں کی ضروریات کا خیال رکھا۔

ایئرلائن نے کہا: "ہم ان تمام مسافروں سے معذرت خواہ ہیں جنہیں تاخیر کے باعث تکلیف ہوئی، اور ہم ان کے صبر و برداشت کی قدر کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button