متحدہ عرب امارات

دبئی میں 50 کلوگرام منشیات مٹھائیوں میں چھپا کر اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، 15 افراد گرفتار

خلیج اردو
دبئی: پولیس نے ایک بین الاقوامی منشیات فروش گروہ کے 15 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں 10 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں۔ یہ گروہ تقریباً 50 کلوگرام منشیات اور 1,100 نشہ آور مٹھائیوں کے ذریعے منشیات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان اشیاء کی مجموعی مالیت تقریباً 24 لاکھ درہم بتائی گئی ہے۔

منشیات مٹھائیوں اور چیونگم میں ملا کر نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر فروغ دی جا رہی تھیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے باخبر کریں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔

یہ انکشاف منشیات کے خلاف عالمی دن کے موقع پر دبئی فیسٹیول سٹی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس میں جنرل ڈائریکٹر جنرل برائے انسداد منشیات، بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمٰن شرف المعمری نے بتایا کہ گروہ بیرون ملک سے چلایا جا رہا تھا لیکن مقامی اور بین الاقوامی اداروں کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم سے کامیاب کارروائی

المعمری نے کہا، ’’یہ مختلف اقسام کی مٹھائیاں تھیں جن میں منشیات شامل کی گئی تھیں۔ ہم نے 48 کلوگرام منشیات اور 1,100 سے زائد نشہ آور گولیاں برآمد کیں۔ یہ تمام اشیاء سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو فروخت کی جا رہی تھیں۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ گروہ کی سرگرمیوں پر خفیہ نگرانی کی گئی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز سے ان کا سراغ لگا کر رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔

والدین کا کردار نہایت اہم قرار

افسران نے نشاندہی کی کہ نوجوان اوسطاً روزانہ سات گھنٹے آن لائن گزارتے ہیں، جس سے وہ غیر محفوظ اور مجرمانہ مواد کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر المعمری نے کہا، ’’صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں، والدین کو بھی بچوں کی نگرانی کرنی ہوگی، خاص طور پر وہ کیا براؤز کر رہے ہیں، کن پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور کن پارسلز کی ترسیل ہو رہی ہے۔‘‘

عوامی آگاہی مہمات میں وسعت

دبئی پولیس نے اس مہم کے تحت اسکولوں، یونیورسٹیوں، مالز اور لیبر کیمپس میں منشیات مخالف آگاہی پروگرامز منعقد کیے۔ رواں سال پولیس نے چار بڑے ایونٹس میں شرکت کی جبکہ گزشتہ سال صرف ایک کیا تھا۔ اب تک 2 لاکھ 70 ہزار اسکول طلبہ اور 20 ہزار یونیورسٹی طلبہ تک رسائی حاصل کی گئی۔

اس کے علاوہ گرمیوں کی چھٹیوں میں نوجوانوں کے لیے سائبر کرائم، بدمعاشی، منشیات کے استعمال اور ڈیجیٹل رویے پر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ 1,300 سے زائد نوجوانوں نے 26 مراکز میں تربیت حاصل کی۔

مشکوک سرگرمی کی فوری رپورٹ کریں

دبئی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک حرکات کو فوراً رپورٹ کریں۔ رپورٹنگ کے ذرائع میں 901 ہیلپ لائن، پولیس آئی ایپ اور ای کرائم پلیٹ فارم شامل ہیں۔ المعمری نے کہا کہ طلبہ کو خوف سے پاک ماحول میں پولیس سے رابطے کی ترغیب دی جاتی ہے، اور تمام رپورٹیں مکمل رازداری کے ساتھ نمٹائی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کے انسداد منشیات قانون کے آرٹیکل 89 کے تحت اگر کوئی فرد خود یا خاندان کی مدد سے علاج کروانے کے لیے سامنے آئے تو اسے قانونی سزا سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button