
خلیج اردو
دبئی میں نجی اسکولوں کے اوقات کار میں صرف تیس منٹ کی تبدیلی نے کئی خاندانوں کے روزمرہ معمولات کو نئے سرے سے ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے، خاص طور پر جمعے کے دن، جو پہلے ہی کام، اسکول پک اینڈ ڈراپ، نمازِ جمعہ اور خاندانی ذمہ داریوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعلان کے مطابق 9 جنوری 2026 سے دبئی کے تمام نجی اسکول اور نجی اسکولوں میں قائم ابتدائی بچپن کے مراکز جمعہ کے روز ساڑھے گیارہ بجے سے پہلے اسکول ڈے ختم کر دیں گے، جس کے بارے میں اسکولوں نے والدین کو باقاعدہ سرکولرز بھی جاری کر دیے ہیں۔
یہ فیصلہ ملک بھر میں نمازِ جمعہ کے وقت کو تبدیل کر کے 12 بج کر 45 منٹ کرنے کے بعد کیا گیا ہے، تاہم والدین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے اثرات کلاس روم سے نکل کر ٹریفک، دفتری توقعات اور بچوں کی دیکھ بھال کے انتظامات تک پھیل رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے اسکول چھٹی اور نمازِ جمعہ کے درمیان محدود وقت ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ اسی دوران اسکول بسوں اور نماز کے لیے جانے والے افراد کی وجہ سے سڑکوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دو بچوں کی والدہ امی رشید کا کہنا ہے کہ ان کے دس سالہ بیٹے کو نمازِ جمعہ کے لیے مسجد جانا ہوتا ہے، لیکن نئے شیڈول کے تحت وہ ساڑھے بارہ بجے گھر پہنچے گا اور صرف پندرہ منٹ میں مسجد پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسکول بسوں اور نماز کے اوقات میں ٹریفک کا ملاپ جمعے کو مزید مشکل بنا دے گا۔ اسی طرح دی گرینز میں مقیم مصری شہری ماہہ عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پہلے بھی جمعہ کی چھٹی کے وقت اسکول کے اطراف ٹریفک مسئلہ ہوتا تھا، اب ساڑھے گیارہ بجے چھٹی ہونے سے یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ڈبل پارکنگ کے باعث۔
دوسری جانب کچھ والدین کے لیے یہ تبدیلی زیادہ مسئلہ نہیں بنی، خاص طور پر وہ خاندان جن کے کام کے اوقات لچکدار ہیں یا گھر میں مدد دستیاب ہے۔ میانمار سے تعلق رکھنے والی شُن کھِن شُن لائے تھا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو پہلے پک کرنے کے لیے معمولی تبدیلی کر سکتی ہیں اور انہیں یہ فائدہ محسوس ہوتا ہے کہ بچے کو آرام اور ذہنی سکون کا وقت ملے گا۔ فلپائنی شہری بین لیبگ کے مطابق ان کی بیٹی کا جلد گھر آنا ان کے خاندانی معمولات سے مطابقت رکھتا ہے اور انہیں اضافی مطالعے کا وقت بھی ملتا ہے۔
تاہم دوہری آمدنی والے کئی خاندانوں کے لیے یہ فیصلہ مزید پیچیدگیاں لے آیا ہے۔ امریکی شہری نٹالیا مرانڈا کا کہنا ہے کہ صرف تین سے چار گھنٹے کا اسکول ڈے عملی طور پر غیر مؤثر محسوس ہوتا ہے، جبکہ دفاتر میں اتنی جلدی چھٹی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جمعہ پہلے ہی توازن کا دن ہوتا ہے، اب بچوں کے لیے اضافی وقت بھرنا اور سرگرمیوں کا انتظام کرنا ایک نیا مسئلہ بن گیا ہے۔
کچھ والدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ان کے لیے زیادہ فرق نہیں ڈالتی۔ دبئی میں دس سال سے مقیم شامی شہری نوار محمود کے مطابق ان کے بچوں کی چھٹی پہلے ہی ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ بجے ہوتی تھی، اس لیے یہ صرف پندرہ منٹ کی تبدیلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی میں مساجد کی کثرت کے باعث بڑے بچوں کے لیے نمازِ جمعہ تک پہنچنا بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مجموعی طور پر، اگرچہ یہ فیصلہ نماز کے اوقات سے ہم آہنگی کے لیے کیا گیا ہے، لیکن والدین کے لیے جمعہ کا دن اب بھی ایک عملی اور انتظامی چیلنج بنا ہوا ہے۔







