
خلیج اردو
دبئی، 8 اکتوبر 2025
دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے عرب سائنسدان پروفیسر عمر یاغی کو کیمیا کے شعبے میں 2025 کا نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ شیخ محمد نے اس کامیابی کو عرب دنیا کے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ کامیابی عرب ذہانت اور علمی قابلیت کی عالمی سطح پر پہچان ہے۔
پروفیسر عمر یاغی، جنہیں گزشتہ برس متحدہ عرب امارات کے "گریٹ عرب مائنڈز ایوارڈ” سے نوازا گیا تھا، اس سال کیمیا کے نوبل انعام کے تین عالمی فاتحین میں شامل ہیں۔ نوبل کمیٹی نے انہیں جاپان کے سوسومو کیٹاگاوا اور آسٹریلیا کے رچرڈ روبسن کے ہمراہ "میٹل آرگینک فریم ورکس” کی ترقی کے اعتراف میں یہ انعام دیا — ایسے نئے مادے جن کے اندر وسیع ساختی خلاء موجود ہوتے ہیں، جو گیسوں کو ذخیرہ کرنے، ہوا سے پانی حاصل کرنے اور ماحولیاتی مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
شیخ محمد بن راشد نے ایک بیان میں کہا، "گزشتہ سال ہم نے پروفیسر عمر یاغی کو نیچرل سائنسز کے زمرے میں عرب جینیئس ایوارڈ سے نوازا تھا، اور آج ہم انہیں نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ یہ کامیابی صرف ان کی نہیں بلکہ پوری عرب دنیا کی کامیابی ہے۔ عرب قوم ذہانت، علم اور فکری طاقت سے مالامال ہے، اور ہمارا مشن یہی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں اور محققین پر اعتماد بحال کریں۔”
پروفیسر عمر یاغی 1965 میں عمان، اردن میں ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں کیمیا کے پروفیسر ہیں اور انہیں "ریٹیکیولر کیمسٹری” (Reticular Chemistry) کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی تحقیقی کاوشوں نے سائنسی دنیا میں نئے راستے کھولے اور ان کے 300 سے زائد تحقیقی مضامین شائع ہو چکے ہیں جنہیں دو لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ بار حوالہ دیا گیا ہے۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے دیا جانے والا نوبل انعام دنیا کا سب سے معتبر سائنسی اعزاز ہے، جس کے تینوں فاتحین کو 11 ملین سویڈش کراؤنز (تقریباً 1.2 ملین امریکی ڈالر) مشترکہ طور پر دیے جائیں گے۔
نوبل کمیٹی کے چیئرمین ہینر لنکے نے کہا کہ ان سائنسدانوں نے ایسے مادے تخلیق کیے ہیں جن کے اندرونی خلاء اتنے وسیع ہیں کہ انہیں ہوٹل کے کمروں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جہاں گیس کے مالیکیول داخل ہو کر دوبارہ خارج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ مادے ماحول سے پانی کشید کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور خطرناک گیسوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔”
یہ نوبل انعام اس سال سائنس کے میدان میں دیا جانے والا تیسرا بڑا اعزاز ہے، جس سے قبل طب اور طبیعیات کے انعامات کا اعلان کیا جا چکا ہے۔







