متحدہ عرب امارات

Dubai Run 2025، شیخ زاید روڈ رنگوں اور جوش سے بھر گیا

خلیج اردو

اتوار کی صبح دبئی نے ایک انتہائی دلکش منظر دیکھا جب ہزاروں شہریوں نے — ننھے بچوں سے لے کر بزرگوں تک — شیخ زاید روڈ کو رنگ، توانائی اور خوشی کے سیلاب میں بدل دیا۔ سالانہ Dubai Run کے موقع پر شہر کی یہ مرکزی شاہراہ ایک بار پھر جشن، فٹنس اور یکجہتی کا عظیم منظر پیش کرتی رہی۔

ایونٹ کا آغاز آتش بازی سے ہوا جبکہ اماراتی پرچم لہراتے ہوئے شرکا مختلف گروپس کی صورت میں روڈ پر رواں دواں رہے۔

خاندانی شرکت
ملائیشین ایمبیسی ابو ظبی کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے انشید بشیر اپنی اہلیہ اور ڈیڑھ سالہ جڑواں بچوں اوزیل میرین اور زیدان ملک کے ساتھ دوسری بار اس ایونٹ میں شریک ہوئے۔ بچوں کو سٹROLLER میں لے کر آنے والی اس فیملی نے رات ہاف ڈیزرٹ میں کیمپنگ بھی کیے رکھی۔ انشید کے بھائی ارشد محمد اور اُن کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی، جو دبئی میں ریل اسٹیٹ کاروبار سے وابستہ ہیں۔

ارشد محمد نے بتایا کہ یہ صرف ایک دوڑ نہیں بلکہ پورا جشن تھا، جس میں انہوں نے پہلے بھی فجیرہ رن میں حصہ لیا۔

پہلی مرتبہ شریک ہونے والے
کینیا سے تعلق رکھنے والے ایان اور بریندا چرچر بھی پہلی بار Dubai Run کا حصہ بنے۔ ان کے مطابق موسم بہترین تھا اور شیخ زاید روڈ پر دوڑنے کا موقع غیر معمولی تجربہ ثابت ہوا۔ ان کی ساتھی جوان ونجیکو نے اس منظر کو زندگی کا رنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیلا رنگ پانی کا ہے، اور زندگی بھی پانی کی مانند ہی ہے۔

بزرگوں کی شرکت
ایونٹ میں ایک بوڑھا جوڑا بھی 5 کلومیٹر کی واک میں شریک ہوا۔ دبئی میں دو دہائیوں سے مقیم کے۔ منجوناتھ نے بتایا کہ وہ تیسرے سال شریک ہوئے ہیں اور انہیں یہ ایونٹ فٹنس کی مسلسل یاد دہانی فراہم کرتا ہے۔ ان کی اہلیہ وسانتھا لکشمی نے دبئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع لاکھوں روپے کے برابر ہے، جس میں بچے، نوجوان اور بزرگ سب شامل ہوئے۔

حاملہ خواتین کی شرکت، بچوں کے ہاتھوں میں لہراتے پرچم، ایل ای ڈی کلائی بینڈز سے جگمگاتے خاندان — ان سب نے مل کر ثابت کیا کہ Dubai Run دبئی فٹنس چیلنج کا سب سے مقبول اور متوقع ایونٹ کیوں ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button