متحدہ عرب امارات

عیدالاضحیٰ پر یو اے ای سے فضائی کرایوں میں بڑی کمی، بعض روٹس پر ٹکٹ 50 فیصد تک سستے ہوگئے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کے آغاز سے قبل مختلف بین الاقوامی روٹس پر فضائی کرایوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض پروازوں کے کرائے تقریباً 50 فیصد تک کم ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چند دن آگے یا پیچھے سفر کرنے والے مسافر سینکڑوں درہم بچا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دبئی سے اسلام آباد جانے والی پروازوں میں سب سے زیادہ فرق دیکھا گیا۔ 25 مئی کی پروازوں کے یکطرفہ کرائے 1684 سے 1882 درہم تک رہے، جبکہ 29 مئی کی بعض پروازیں صرف 669 درہم میں دستیاب تھیں۔

اسی طرح لاہور کیلئے 26 مئی کی پروازوں کے کرائے ایک ہزار درہم سے زائد رہے، لیکن 28 اور 29 مئی کی بعض فلائٹس 688 سے 723 درہم تک فروخت ہوتی رہیں۔

استنبول جانے والی براہِ راست پروازوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ 25 مئی کو بعض ایئرلائنز کے ٹکٹ 2100 درہم سے زیادہ تھے جبکہ 28 اور 29 مئی کی پروازیں تقریباً 1400 درہم میں دستیاب رہیں۔

قاہرہ کیلئے بھی بعد کی تاریخوں میں کرائے کم دیکھے گئے۔ 25 مئی کی کئی پروازیں 1900 درہم کے قریب تھیں جبکہ 29 مئی کی بعض نشستیں 816 درہم میں دستیاب رہیں۔

تاہم تمام روٹس پر کمی نہیں دیکھی گئی۔ کوچی جیسے روٹس پر عید کے دوران وطن واپس جانے والے مسافروں کی زیادہ طلب کے باعث کرائے مسلسل بلند رہے۔

بنسیا فربین کے مطابق اس سال یو اے ای کے رہائشی عید سے پہلے جلد بکنگ کر رہے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے کرایوں سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق تھائی لینڈ، ویتنام، جارجیا، آذربائیجان، مالدیپ اور ترکی سمیت بھارت، سعودی عرب، مصر اور لبنان کیلئے بھی طلب زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عید کے قریب ایئرلائنز جنوبی ایشیا اور تفریحی مقامات کیلئے اضافی پروازیں شامل کر سکتی ہیں جس سے محدود تعداد میں رعایتی ٹکٹ دستیاب ہو سکتے ہیں، تاہم مجموعی رجحان اب بھی مہنگے کرایوں کی جانب ہے۔

جعفر مانو نے کہا کہ اس سال کئی خاندان علاقائی غیر یقینی صورتحال اور معاشی خدشات کے باعث اخراجات میں احتیاط برت رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب زیادہ افراد کم خرچ مقامات جیسے صلالہ کا رخ کر رہے ہیں۔

سفری پلیٹ فارم اسکائی اسکینر کے مطابق 26 مئی کیلئے یو اے ای سے بیرون ملک سفر کی تلاش میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مسافر بجٹ اور سہولت کے مطابق تاریخوں اور روٹس میں لچک دکھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button