
خلیج اردو
Abu Dhabi Labour Court نے اختلاس کے مقدمے میں سابق ملازم کو اپنی کمپنی کو 2 لاکھ 90 ہزار درہم سے زائد رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم 24 اگست 2024 سے کمپنی میں پبلک ریلیشنز منیجر کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس کی ماہانہ تنخواہ 17 ہزار درہم تھی، جبکہ کمپنی نے کاروباری سہولت کیلئے اسے پاور آف اٹارنی بھی دے رکھی تھی۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی مختلف اوقات میں کاروباری اخراجات کیلئے اس کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرتی رہی، تاہم بعد ازاں انکشاف ہوا کہ اس نے مجموعی طور پر 2 لاکھ 94 ہزار 304 درہم 24 فلس کا غلط استعمال کیا۔
کمپنی نے متحدہ عرب امارات کے لیبر قانون کے آرٹیکل 44 کے تحت اعتماد شکنی اور مالی بدعنوانی کی بنیاد پر ملازم کو برطرف کر دیا۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ملازم نے کمپنی کی رقم سے 28 ہزار 77 درہم کے موبائل فونز خریدے لیکن کمپنی کے حوالے نہیں کیے، اردن میں قیام کے دوران 14 ہزار 236 درہم بطور ایڈوانس وصول کیے جو واپس نہ کیے، 9 ہزار درہم کے اخراجات کی تفصیل فراہم نہ کی، جبکہ 2 لاکھ 43 ہزار 515 درہم بطور قرض حاصل کیے جو تاحال ادا نہیں کیے گئے۔
اس کے علاوہ ٹریفک جرمانوں کی مد میں 2 ہزار 690 درہم بھی کمپنی پر ڈالے گئے، جبکہ دیگر منتقل شدہ رقوم بھی واپس نہیں کی گئیں۔
ماہر کی رپورٹ کے بعد عدالت نے ملزم کو 2 لاکھ 90 ہزار 383 درہم 66 فلس کمپنی کو ادا کرنے کے ساتھ عدالتی اخراجات اور 500 درہم وکلا فیس ادا کرنے کا حکم دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مالی بدعنوانی کے مقدمات میں امانت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔







