
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں اتحاد ریل منصوبہ جیسے جیسے سکمکم، السلہ اور الرویس جیسے قصبوں سے گزرتی جا رہی ہے، مقامی رہائشیوں کا جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگ پر امید ہیں کہ یہ ریلوے نہ صرف سفر کو آسان اور سستا بنائے گی بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت میں بھی نئی روح پھونک دے گی۔
فجیرہ کے علاقے سکمکم میں رہائش پذیر ریئم الیمحی کے گھر کے عقب میں ریلوے ٹریک گزر رہا ہے۔ ریئم کا کہنا ہے کہ وہ اکثر ابوظہبی کا سفر کرتی ہیں مگر دو گھنٹے کی ڈرائیو تھکا دینے والی ہوتی ہے، اس لیے ریلوے ان کے لیے نعمت ثابت ہوگی۔ "میں ایک مصروف طالبہ ہوں، سفر کے دوران مطالعہ یا پڑھائی کرنا چاہتی ہوں، ڈرائیو کے دوران یہ ممکن نہیں ہوتا۔ ریل سے یہ سفر دو گھنٹوں سے بھی کم کا ہو جائے گا۔”
ریئم کا مزید کہنا تھا کہ اتحاد ریل ان کے علاقے کے لیے اقتصادی ترقی کا باعث بنے گی اور سیاحوں کے لیے مختلف شہروں کو جوڑنے میں مددگار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "ریل سسٹم ماحول دوست ہے اور کاربن کے اخراج میں 70 سے 80 فیصد کمی کے ہدف کا حصہ ہے۔”
ابوظہبی کے مغربی علاقے السلہ کی رہائشی نورا المنصوری بھی اس منصوبے پر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "سلہ کا شہر یو اے ای سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن اب ریل کے ذریعے ہم دوسرے شہروں سے جڑ جائیں گے۔” السلہ کی آبادی 10,500 کے قریب ہے اور نورا کو امید ہے کہ اتحاد ریل ان کے قصبے کو باقی دنیا کے لیے دریافت کرنے کا ذریعہ بنے گی۔
نورا کہتی ہیں کہ "مجھے لگتا ہے ریل کی وجہ سے لوگ ہمارے قصبے کی خوبصورتی اور سکون سے روشناس ہوں گے۔ قصبہ جو اب سست اور خاموش لگتا ہے، ریل کے بعد یہاں نوجوانوں کے آنے سے رونق لگے گی۔”
اتحاد ریل کا ٹریک فجیرہ پورٹ سے شروع ہو کر ابو ظہبی کے مغربی علاقے غویفات تک جائے گا، جو کہ سعودی عرب کی سرحد سے متصل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد امارات بھر میں پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم کی تشکیل اور شہروں کو بہتر طور پر جوڑنا ہے۔






