
خلیج اردو
غازی آباد: خود کو ’ویسٹ آرکٹیکا کا بیرن‘ کہلانے والے ہریش وردھن جین کو جعلی سفارتخانے چلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 47 سالہ بھارتی شہری کو گزشتہ ماہ غازی آباد کے علاقے کاوی نگر میں واقع ایک کرائے کے بنگلے سے گرفتار کیا گیا، جہاں سے پولیس نے چار لگژری گاڑیاں، 20 جعلی سفارتی نمبر پلیٹس اور 12 غیر مجاز سفارتی پاسپورٹس برآمد کیے۔
خصوصی ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اتر پردیش کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، جین نے دبئی میں چھ بینک اکاؤنٹس قائم کر رکھے تھے جبکہ اس کے مالی معاملات متحدہ عرب امارات سے جڑے ہوئے تھے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جین 2005 سے 2015 کے درمیان 145 مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکا ہے، جن میں سے 54 دورے یو اے ای کے تھے۔
ایس ٹی ایف کا کہنا ہے کہ جین کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے جو غازی آباد میں اسٹیل رولنگ مل اور راجستھان میں کانیں چلاتا ہے۔ تفتیش کے دوران جین نے دعویٰ کیا کہ اس نے لندن کی ایک یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے۔ 2006 میں وہ دبئی منتقل ہوا اور وہاں ملازمتوں کی فراہمی کے بہانے لوگوں کو جعلی بھرتیوں کے ذریعے دھوکہ دینے کے نیٹ ورک میں ملوث ہو گیا۔
2011 میں بھارت واپسی کے بعد جین کی ریاستی علامتوں اور القابات سے وابستگی مزید بڑھ گئی۔ 2012 میں وہ سیورگا نامی خودساختہ مائیکرو نیشن کا مشیر بنا، بعد ازاں پوبیا اور لوڈونیا جیسے خیالی ممالک کی سفارتی حیثیت کا بھی دعویٰ کیا۔ اس کے گھر پر مختلف ممالک کے جھنڈے، جعلی سفارتی نمبر پلیٹس والی گاڑیاں اور ویسٹ آرکٹیکا گرینڈ ڈچی کا بورڈ لگا ہوا تھا۔
22 جولائی کو ایس ٹی ایف نے اس کے گھر پر چھاپہ مار کر 44 لاکھ روپے نقد، غیر ملکی کرنسی، 34 جعلی مہریں اور مشہور شخصیات جیسے سعودی اسلحہ ڈیلر عدنان خشوگی اور بھارتی روحانی پیشوا چندر سوامی کے ساتھ تصاویر برآمد کیں۔ تحقیقات میں خشوگی کی جانب سے 2002 تا 2004 کے درمیان جین کو 84 لاکھ درہم کی رقم منتقلی کا سراغ بھی ملا ہے۔
ویسٹ آرکٹیکا نے وضاحت کی ہے کہ جین کو 2016 میں صرف ایک اعزازی قونصل کا خطاب دیا گیا تھا اور اسے ادارے کی نمائندگی کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ اس کا تعلق اب ’غیر معینہ مدت‘ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
ایس ٹی ایف کے مطابق جین نے دبئی میں چھ بینک اکاؤنٹس اور کم از کم ایک دبئی رجسٹرڈ کمپنی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے لیے 25 سے زائد جعلی کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں۔ اس نیٹ ورک میں متعدد بین الاقوامی ساتھی بھی شامل تھے جو آف شور اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی ترسیل میں مدد فراہم کرتے تھے۔
غازی آباد میں جعلی سفارتکاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ رواں سال مارچ میں پولیس نے کرشنا شیکھر رانا نامی ایک 66 سالہ حیاتیات کے پروفیسر کو امانی سفیر بن کر پروٹوکول اور سیکیورٹی لینے کی کوشش پر گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے جعلی سفارتی نمبر پلیٹ والی مرسڈیز بینز بھی برآمد ہوئی تھی۔






