
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں یکم جون 2026 سے نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے نیا ویج پروٹیکشن سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت کمپنیوں کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ تک تنخواہیں ادا کرنا لازمی ہوگا۔ نئی پالیسی کے مطابق پہلی تاریخ کے بعد کی جانے والی ادائیگی کو تاخیر تصور کیا جائے گا اور اس پر مرحلہ وار کارروائی شروع ہو جائے گی۔
نئے قانون کے تحت پہلے موجود 15 روزہ رعایتی مدت ختم کر دی گئی ہے۔ اب وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی کاری وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی کاری تنخواہوں کی ادائیگی کی نگرانی فوری طور پر شروع کرے گی۔ دوسرے دن کمپنیوں کو تنبیہی نوٹس جاری ہوں گے جبکہ پانچویں دن نئی ورک پرمٹس جاری کرنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق اگر گیارہویں دن تک تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو کمپنیوں پر انتظامی جرمانے عائد کیے جائیں گے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی کی درجہ بندی بھی کم کی جا سکتی ہے۔ سولہویں دن وزارت خودکار طریقے سے لیبر تنازع درج کر سکے گی، جبکہ 25 یا اس سے زائد متاثرہ ملازمین والی کمپنیوں پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
قانون کے مطابق اکیسویں دن تک تنخواہیں ادا نہ ہونے پر حکام قانونی کارروائی، کمپنی کے اثاثوں پر پابندی اور ذمہ دار شخص پر سفری پابندی بھی عائد کر سکتے ہیں۔ بعض معاملات میں کیس کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے بھی کیا جا سکے گا۔
نئے ویج پروٹیکشن سسٹم کے تحت ایک اہم تبدیلی “85 فیصد تنخواہ تعمیل اصول” بھی ہے۔ کمپنی کو اس وقت قانون پر عمل کرنے والا سمجھا جائے گا اگر وہ تمام ملازمین کی کم از کم 85 فیصد واجب الادا تنخواہیں مقررہ وقت پر ادا کرے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطلب ملازمین کو کم تنخواہ دینا نہیں بلکہ یہ صرف انتظامی تعمیل کا پیمانہ ہے۔
حکام نے بعض ملازمین اور اداروں کو اس قانون سے استثنیٰ بھی دیا ہے۔ عدالتوں میں زیرِ سماعت اجرتی تنازعات، غیر حاضر قرار دیے گئے ملازمین، زیرِ حراست افراد، بغیر تنخواہ رخصت پر موجود کارکنان، سمندری عملہ اور بعض غیر ملکی کارکنان اس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بینکنگ، مالیاتی اداروں اور بعض مخصوص شعبوں کو بھی جزوی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نئے قوانین ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑی قانونی تبدیلی قرار دیے جا رہے ہیں۔







