متحدہ عرب امارات

پارکنگ فیس کا بوجھ: کچھ اماراتی رہائشی ماہانہ 550 درہم صرف پارکنگ پر خرچ کرنے لگے، دوسرا کار بیچنے کا فیصلہ

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں گاڑی رکھنے کا مطلب اب صرف ایندھن اور مرمت کے اخراجات برداشت کرنا نہیں بلکہ پارکنگ کے اخراجات بھی ایک بڑا مالی بوجھ بن چکے ہیں۔ خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو دو گاڑیاں رکھتے ہیں، پارکنگ کی بڑھتی ہوئی فیس اور شہروں میں مزید علاقوں کا ’پیڈ پارکنگ زون‘ میں تبدیل ہونا، انہیں اپنی دوسری گاڑی بیچنے پر مجبور کر رہا ہے۔

کئی رہائشیوں نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بیشتر رہائشی عمارتوں میں فی اپارٹمنٹ صرف ایک پارکنگ جگہ فراہم کی جاتی ہے، جو اکثر مفت بھی نہیں ہوتی۔ دوسری گاڑی کے لیے انہیں عوامی پارکنگ لاٹس یا سڑک کنارے پارکنگ پر ماہانہ 300 درہم یا اس سے زیادہ ادا کرنے پڑتے ہیں۔

’ایک فلیٹ، ایک پارکنگ سلاٹ‘

ال نہدہ، شارجہ کے رہائشی اردنی شہری محمد ابو حمدان نے بتایا کہ وہ اپنی ایک گاڑی کے لیے عمارت کے اندر پارکنگ کی مد میں ہر ماہ 300 درہم ادا کرتے ہیں، مگر یہ کافی نہیں۔ "میری اہلیہ بھی کام پر گاڑی چلا کر جاتی ہیں، اور ہمارے پاس دوسری گاڑی کے لیے کوئی سلاٹ نہیں ہے، لہذا قریبی اوپن پارکنگ لاٹ میں مزید 250 درہم ماہانہ ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ہم صرف پارکنگ کے لیے دو گاڑیوں پر ماہانہ 550 درہم خرچ کر رہے ہیں۔”

خاندان کے پاس ایک تیسری گاڑی بھی ہے جو ان کے بیٹے کے زیر استعمال ہے، جو یونیورسٹی آتا جاتا ہے۔ "تین گاڑیوں کے لیے پارکنگ سلاٹس رکھنا ہمارے بس میں نہیں۔ بیٹا اکثر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہے یا کار پولنگ کا سہارا لیتے ہیں۔ جب ہم نے گاڑیاں خریدیں تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ صرف پارکنگ کے اخراجات اتنے بڑھ جائیں گے۔”

دبئی میں اپریل سے متغیر عوامی پارکنگ ٹیرف نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت مصروف اوقات (صبح 8 سے 10 اور شام 4 سے 8 بجے تک) میں پریمیم پارکنگ کی فیس 6 درہم فی گھنٹہ اور اسٹینڈرڈ پارکنگ 4 درہم فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔

’بے فکری کی تبدیلی‘

کچھ رہائشیوں نے پارکنگ کے مسائل اور اضافی اخراجات سے بچنے کے لیے اپنی کم استعمال ہونے والی دوسری گاڑی فروخت کر دی ہے۔ دبئی کے البرشاء کے ایک مال میں کام کرنے والے عمران پٹیل نے بتایا کہ انہوں نے اپنی دوسری گاڑی صرف پارکنگ کے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے بیچ دی۔ "ہم ایک عمارت میں رہتے ہیں جہاں صرف ایک پارکنگ سلاٹ دیا جاتا ہے۔ دوسری گاڑی کے لیے ہم 400 درہم ماہانہ ادا کرتے تھے اور ہر وقت چالان کا خطرہ رہتا تھا۔”

تاہم گاڑی فروخت کرنے کا ان کے لیے زیادہ نقصان نہیں ہوا کیونکہ ان کے گھر اور دفتر میٹرو اسٹیشنز کے قریب واقع ہیں۔ "میری اہلیہ اب میٹرو استعمال کرتی ہیں۔ ہم نے نہ صرف پارکنگ بلکہ ایندھن اور مرمت کے اخراجات سے بھی چھٹکارا پا لیا ہے۔ یہ واقعی ایک بے فکری کی تبدیلی رہی۔”

پارکنگ سبسکرپشنز کا سہارا

وہ رہائشی جو میٹرو لائنز کے قریب نہیں رہتے، ان کے لیے دوسری گاڑی چھوڑنا ممکن نہیں۔ لیکن وہ بھی ماہانہ پارکنگ سبسکرپشنز کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ روزانہ پارکنگ کی تلاش اور فیس کے مسائل سے بچ سکیں۔

مرڈف میں مقیم ایرانی خشک میوہ جات کے تاجر عبدالہادی نے حال ہی میں زون اے پارکنگ پرمٹ حاصل کیا ہے۔ "ہم اپنی دوسری گاڑی کے لیے ماہانہ 500 درہم کی سبسکرپشن لیتے ہیں جو دبئی کے زون اے، بی، سی، اور ڈی میں پارکنگ کی اجازت دیتی ہے۔ یہ واقعی ایک بڑا سکون ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "زون اے کی سبسکرپشن کے بعد ہم اپنے گھر کے قریب پارکنگ کر سکتے ہیں اور شہر میں کہیں بھی جائیں، گھنٹوں کی فیس یا ٹاپ اپ کرنے کی فکر نہیں رہتی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button