متحدہ عرب امارات

پاکستان کا بھارت سے میچ بائیکاٹ، آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو بڑا مالی دھچکا

خلیج اردو
پاکستان کی جانب سے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے نے عالمی کرکٹ میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں اسے محض اسپورٹس نہیں بلکہ سیاسی اور مالی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکومت نے اتوار کی شب اعلان کیا کہ ٹیم ورلڈ کپ میں شریک رہے گی، تاہم 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ عالمی کرکٹ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا اور سب سے زیادہ آمدن پیدا کرنے والا میچ سمجھا جاتا ہے، جس سے آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔

سابق پاکستانی وکٹ کیپر اور کپتان راشد لطیف نے خلیج ٹائمز کو بتایا، “ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آئی سی سی کے فیصلوں پر بی سی سی آئی کا اثر و رسوخ غالب رہا ہے، یہ کھیل کے مفاد میں نہیں۔”

راشد لطیف کے مطابق بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا منتقل نہ کرنے کا فیصلہ اور مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنا “آخری تنکا” ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا، “بنگلہ دیش کا مؤقف جائز تھا، آئی سی سی اس سے قبل بھارت کے لیے میچز دبئی منتقل کر چکی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم کی جانب سے مصافحہ نہ کرنے کا واقعہ بھی کھیل کی روح کے منافی تھا اور پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کی حمایت ضروری تھی۔

آئی سی سی نے بائیکاٹ پر پاکستان کو “طویل المدتی نتائج” کی وارننگ دی ہے، تاہم راشد لطیف کا کہنا ہے، “آئی سی سی کو پاکستان کی ضرورت ہے، بھارت اور پاکستان کا میچ ہی ان کی سب سے بڑی کمائی ہے۔”

سینئر صحافی شاہد ہاشمی کے مطابق گروپ مرحلے میں دو پوائنٹس کی قربانی پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں، تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں ممکنہ پاک-بھارت مقابلہ ایک “ملین ڈالر سوال” بن چکا ہے۔

ادھر بھارتی صحافی نکھل ناز کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے معاملے کا الزام صرف بی سی سی آئی پر ڈالنا درست نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ اکثریتی بورڈز نے کیا۔

ماہرین کے مطابق پاک-بھارت میچ سے تقریباً 400 ملین ڈالر کی آمدن ہوتی ہے، اور اس میچ کے بغیر ورلڈ کپ آئی سی سی کے لیے بڑا مالی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button