متحدہ عرب امارات

گاؤں کا محافظ: سابق حاکمِ عجمان نے مسفوت کو لٹیروں سے بچایا، اسکول قائم کیا

خلیج اردو
ہاجر پہاڑوں میں گھرا مسفوت کبھی ایک دور افتادہ اور خود کفیل گاؤں تھا، جہاں کے باسی صرف امن، پانی اور خوراک کی تلاش میں آباد ہوئے تھے، مگر آج یہی مسفوت اقوامِ متحدہ کے عالمی سیاحتی ادارے کی جانب سے 2025 کے لیے “دنیا کا بہترین سیاحتی گاؤں” قرار پا چکا ہے۔

مسفوت کے مقامی محقق ڈاکٹر سیف بن عبود البدواوی کے مطابق یہ علاقہ قدرتی دفاعی حصار رکھتا تھا، جہاں قدیم فلج آبپاشی نظام، وادیاں اور زرخیز زمین آبادکاری کے لیے موزوں تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “مسفوت کے لوگ فطرتاً پُرامن تھے، انہیں صرف محفوظ پناہ گاہ درکار تھی۔”

گزشتہ صدی کے اوائل میں مسفوت کو پڑوسی قبائل اور لٹیروں کے حملوں کا سامنا رہا، خصوصاً 1905 میں وادی حتیٰ میں قائم قلعے کے باعث حالات مزید خراب ہو گئے۔ معاشی مشکلات، موتیوں کی صنعت کے زوال اور جنگِ عظیم دوم کے اثرات نے گاؤں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔

ایسے حالات میں مسفوت کے عمائدین نے 1947 میں سابق حاکمِ عجمان شیخ راشد بن حمید النعیمی سے مدد طلب کی، جنہوں نے مسفوت کو اپنی عمل داری میں شامل کر کے گاؤں کو تحفظ فراہم کیا۔

ڈاکٹر سیف کے مطابق “شیخ راشد خود لٹیروں کے ہاتھوں اغوا ہونے والی خواتین کی بازیابی کے لیے مداخلت کرتے یا ثالث بھیجتے تھے، جس سے لوگوں کو تحفظ کا احساس ملا۔”

شیخ راشد نے صرف امن ہی نہیں بلکہ ترقی کی بنیاد بھی رکھی۔ انہوں نے 1950 میں مسفوت ٹاور بحال کیا، 1963 میں پہلا کلینک، 1964 میں پہلا باقاعدہ اسکول قائم کیا اور 1968 میں 30 پختہ مکانات تعمیر کروائے۔

شیخ زاید بن سلطان النہیان کے تعاون سے مسفوت کو ترقیاتی وسائل فراہم کیے گئے، جس نے علاقے کی تقدیر بدل دی۔

آج “مسفوت 2030” وژن کے تحت یہ علاقہ ایک جدید سیاحتی مرکز بن چکا ہے، جہاں مسفوت گیٹ، میوزیم، قلعہ، تاریخی بن سلطان مسجد، ہائیکنگ ٹریلز اور تفریحی سرگرمیاں سیاحوں کو متوجہ کر رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button