
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں فلو کے کیسز ایک بار پھر بڑھنے لگے ہیں، جس پر ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ فلو سیزن ختم ہونے کے بجائے طویل یا ممکنہ طور پر دوسری لہر کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
طبی مراکز کے مطابق بخار، کھانسی اور شدید تھکن کی شکایات کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر خاندانوں، بزرگوں اور کم عمر بچوں میں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں بھی انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سعودی جرمن اسپتال دبئی کی فیملی میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریحاب یوسف السعدی کے مطابق، “یو اے ای اور عالمی سطح پر جنوری کے آخر اور فروری میں فلو کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو روایتی طور پر عروج کا دور سمجھا جاتا ہے، تاہم اس بار کیسز توقع سے کہیں زیادہ ہیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلو سیزن عموماً دو مراحل میں سامنے آتا ہے، پہلے انفلوئنزا اے اور اس کے بعد فروری سے اپریل کے دوران انفلوئنزا بی، جس کے باعث وہ افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو سردیوں کے آغاز میں محفوظ رہے تھے۔
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کی ڈاکٹر رینوکا راماسوامی کے مطابق، “اس سال فلو سیزن غیر معمولی طور پر طویل ہو گیا ہے، واضح کمی کے بجائے کیسز میں دوسری بار اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات سماجی میل جول اور بروقت ویکسین نہ لگوانا ہیں۔”
ایل ایل ایچ میڈیکل سینٹر شعبیہ کی ڈاکٹر پورنیما نے بتایا کہ زیادہ خطرے سے دوچار افراد میں 65 سال سے زائد عمر کے افراد، پانچ سال سے کم عمر بچے، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد شامل ہیں۔ ان کے مطابق فلو کی عام علامات میں تیز بخار، شدید تھکن، گلے میں درد، خشک کھانسی اور جسمانی درد شامل ہیں۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں، بیمار افراد سے فاصلہ رکھیں، بھیڑ والی جگہوں پر ماسک استعمال کریں اور بچوں کو بیماری کی حالت میں اسکول نہ بھیجیں۔
ماہرینِ صحت نے واضح کیا ہے کہ فلو ویکسین لگوانے میں ابھی دیر نہیں ہوئی، کیونکہ یہ انفلوئنزا اے اور بی دونوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور بیماری کی شدت، اسپتال میں داخلے اور پیچیدگیوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر دیتی ہے۔






