
خلیج اردو
ابوظہبی میں منعقدہ "ینگ عرب پاینیرز انیشی ایٹو” کے چوتھے ایڈیشن میں عرب دنیا کے 40 نوجوان انجینئرز اور کاروباری شخصیات نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک "بولڈ بریک” کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مغربی ٹیکنالوجی پر دہائیوں سے جاری انحصار کو ترک کرنے اور خلا سے لے کر مصنوعی ذہانت تک اپنے گھریلو معیارات اور اختراعات متعارف کرانے پر زور دیا۔
کویتی مکینیکل انجینئر اور اینالاگ ایسٹروناٹ، لما العریمان نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خلا سے متعلق ٹیکنالوجی درآمد کرنے کے بجائے اسے برآمد کریں۔” انہوں نے یورپی اسپیس ایجنسی کی طرز پر ایک متحدہ عرب اسپیس الائنس کے قیام کی تجویز دی اور یو اے ای اور سعودی عرب کو اس حوالے سے خطے کے رہنما قرار دیا۔
مصری فزسسٹ اور اسپیس انٹرپرینیور مروان محی مصطفی نے واضح کیا کہ حقیقی خودمختاری اس وقت ممکن ہوگی جب خطہ اپنے لانچ پلیٹ فارم اور راکٹ مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کا مالک بنے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف آزادی دلائیں گے بلکہ بیرونی ممالک کے لمبے انتظار سے بھی چھٹکارا ملے گا۔
کویتی سافٹ ویئر اسپیشلسٹ اور سی ٹی او سندس جبر الفارسی نے خبردار کیا کہ مغربی ماڈلز پر مکمل انحصار ڈیٹا رسک پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عرب دنیا اپنے معیارات قائم کرے جو عالمی اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہوں اور خطے کی ضروریات کو بھی پورا کریں۔
اردنی اے آئی انٹرپرینیور شریف غسان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو مغربی ماڈلز کے بجائے عرب خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق "عرب شہری متحرک اور آواز بلند کرنے والے ہیں، اور یہی ہماری طاقت ہے۔”
لما العریمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی اسپیس کمیٹیوں میں عرب نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی پالیسی سازی میں خطے کی آواز کو تقویت ملے۔
یہ ایونٹ سائنسی تحقیق، پائیداری، انٹرپرینیورشپ اور ڈیجیٹل سٹیزن شپ سمیت دس خصوصی شعبوں پر مبنی تھا، جس نے واضح کیا کہ خلا کی ٹیکنالوجی میں خودکفالت دراصل عرب دنیا کی وسیع تر ٹیکنالوجیکل آزادی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔







