متحدہ عرب امارات

### دبئی سے ہیٹرو تک: ایئرپورٹس اب صرف ٹرانزٹ نہیں بلکہ ’ایکسپیریئنس حبز‘ بن رہے ہیں

خلیج اردو
گزشتہ دو دہائیوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) ایک علاقائی مرکز سے دنیا کا مصروف ترین انٹرنیشنل ایئرپورٹ بن گیا ہے، جہاں سالانہ 80 ملین سے زائد مسافر آتے ہیں۔ اب یہ محض ٹرانزٹ پوائنٹ نہیں بلکہ اپنی جگہ ایک منزل بن چکا ہے۔ تاہم اس کامیابی کے باوجود عالمی سطح پر ٹریول ریٹیل کی آمدنی میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جو 2023 میں 72 ارب ڈالر رہی، جو کہ 2019 کے 86 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسئلہ مسافروں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے اخراجات کا ہے۔ اوسطاً فی مسافر خرچ میں 15 فیصد کمی آئی ہے، اور صرف 28 فیصد ایئرپورٹ بوتیکس ہی غیر معمولی سروس فراہم کرتے ہیں جبکہ گھریلو لگژری ریٹیل میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد ہے۔ یہی سروس گیپ ایئرپورٹس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

اسی تناظر میں دنیا بھر کے ایئرپورٹس اپنے ٹرمینلز کو "ایکسپیریئنس حبز” میں تبدیل کر رہے ہیں، جہاں لگژری، ویلنیس، ثقافت اور جدت کو یکجا کیا جا رہا ہے۔

سنگاپور کا چانگی ایئرپورٹ اس رجحان کا رہنما ہے، جہاں روبوٹ بارسٹا، اے آئی پاورڈ ریٹیل، روف ٹاپ گارڈنز اور ان ڈور واٹر فالز جیسے منفرد تجربات شامل ہیں۔ دوحہ کا حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 800 مربع میٹر کے ڈيور لگژری بیوٹی ریٹریٹ کے ذریعے ویلنیس کو نئی جہت دے رہا ہے، جبکہ لندن ہیٹرو نے لوئس وٹون کا پہلا یوکے کیفے متعارف کرایا ہے۔

یو اے ای میں بھی یہ تبدیلی نمایاں ہے۔ دبئی ایئرپورٹ نے اپنے تمام ٹرمینلز کے ریٹیل ایریاز کو 2,100 مربع میٹر پر جدید انداز میں اپ گریڈ کیا ہے تاکہ آنے والے مسافروں پر عالمی معیار کا پہلا تاثر قائم ہو۔ ابوظہبی کے نیا زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ٹرمینل اے میں ڈیجیٹل فساڈز اور ڈیزائن لیڈ شاپنگ اسپیسیز متعارف کروا کر انڈسٹری میں نئی مثال قائم کی ہے۔

سیول کے انچیون ایئرپورٹ نے "کورین کلچرل اسٹریٹ” کے ذریعے مسافروں کے خرچ میں 35 فیصد اضافہ کیا، جبکہ بھارت کے بنگلورو ایئرپورٹ نے "بوٹانیکل ٹرمینل” کا تجربہ فراہم کیا تاکہ مسافر سست روی سے فطرت سے جڑ سکیں۔

CXG کی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کو "ٹرائیلوجی اپروچ” کہا گیا ہے، جس میں ایئرپورٹ حکام، ریٹیل آپریٹرز اور برانڈز کو ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ایئرپورٹس کو محض ڈیوٹی فری مراکز کے بجائے عالمی معیار کے "اسٹیجز” بنایا جا سکے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ایئرپورٹس صرف سفر کا حصہ نہیں بلکہ ایک مکمل لگژری اور ثقافتی تجربہ فراہم کرنے والے عالمی مراکز ہوں گے، جہاں مسافروں کے لیے فلائٹ کے بیچ گزرنے والے گھنٹے ضائع نہیں بلکہ ایک قیمتی اضافہ بن جائیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button