خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہفتے کے روز تازہ وارننگ جاری کرتے ہوئے عوام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کسی غیر قانونی سرگرمی کے لیے جعلی انٹرنیٹ پروٹوکل (آئی پی) ایڈریس استعمال کرنے پر آپ کو 5 لاکھ سے 2 ملین درہم کے درمیان جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے ہفتے کے روز ایک ویڈیو ٹوئیٹ کی گئ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی پی ایڈریس کمپیوٹر نیٹ ورک میں رابطے کے لیے استعمال ہونے والی کسی ڈیوائس کا ایک عددی لیبل ہوتا ہے۔
اور سائبر کرائم کو روکنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے 2012 کے وفاقی قانون نمبر 5 کی دفعہ 9 کے تحت کسی جرم کی نیت سے جعلی آئی پی ایڈریس، غلط آئی پی ایڈریس یا تھرڈ پارٹی آئی پی ایڈریس استعمال کرنا جرم ہے۔ اور اس جرم کی سزا قید یا 5 لاکھ سے 2 ملین درہم تک کا جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہوسکتی ہیں۔
عقوبة التحايل على العنوان البروتوكولي للشبكة المعلوماتية بقصد ارتكاب جريمة او الحيلولة دون اكتشافها#قانون #ثقف_نفسك #ثقافة_قانونية #تقنية_المعلومات #خلك_حكيم #الامارات #الامارات_العربية_المتحدة #النيابة_العامة_الاتحادية#cybercrime #law #legal_culture pic.twitter.com/SVwoQWcCt1
— النيابة العامة (@UAE_PP) November 28, 2020
خیال رہےکے 2012 میں جرمانہ کم تھا لیکن 2016 میں اسے بڑھا دیا گیا تھا۔
اور تھرڈ پارٹی آئی پی ایڈریس وی پی این (پراکسی) کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اگر اسے کسی جرم کرنے جیسا کہ آن لائن جوا کھیلنے کے لیے استعمال کیا جائے تو درج بالا جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Source: Khaleej Times







