متحدہ عرب امارات

دبئی میں دو سال سے لاپتہ بھارتی شہری کی تلاش، اہلِ خانہ غم و بے بسی کا شکار

خلیج اردو
جے پور — بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جھنجھنو سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ راکیش کمار جانگڑ دو سال سے زائد عرصے سے دبئی میں لاپتہ ہیں۔ تین بچوں کے والد راکیش کی گمشدگی نے پورے خاندان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔

راکیش 21 جون 2023 کو 60 روزہ ویزے پر دبئی پہنچے تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ماہر ماربل انسٹالر تھے اور اس سے قبل افغانستان اور عراق میں بھی کام کر چکے تھے۔ دبئی آنے کے بعد وہ روزانہ گھر فون کرتے رہے، مگر 6 جولائی 2023 کی صبح ایک پراسرار کال کے بعد ان کا رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔

راکیش کے بڑے بھائی مکھن لال کے مطابق اُس روز راکیش نے ایک اجنبی کے فون سے کال کی تھی۔ وہ گھبرائے ہوئے لگ رہے تھے اور بتایا کہ وہ جس عمارت کی 14ویں منزل پر کام کر رہے ہیں وہاں دو افراد میں جھگڑا ہو رہا ہے، اور ان میں سے ایک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کا انتقال ہو گیا ہے۔ جب گھر والوں نے انہیں یقین دلایا کہ سب خیریت سے ہیں، تو راکیش نے اپنی اہلیہ سے بات کی — لیکن اس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ملی۔

کئی دن گزرنے کے باوجود جب راکیش کا کوئی پتہ نہ چلا تو اہل خانہ نے اس ایجنٹ سے رابطہ کیا جس نے دبئی میں ملازمت کا بندوبست کیا تھا۔ آٹھ ماہ بعد، مارچ 2024 میں، ایجنٹ نے ایک وائس نوٹ بھیجا جس میں دعویٰ کیا کہ راکیش جیل میں ہیں اور کسی کو دبئی آ کر مدد کرنی چاہیے۔

مکھن لال فوراً دبئی پہنچے اور انہوں نے اسپتالوں، جیلوں اور حتیٰ کہ مردہ خانوں تک تلاش کی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بعدازاں اپنے چھوٹے بھائی کی اچانک موت کی اطلاع پر وہ واپس بھارت لوٹ گئے۔ مکھن کے مطابق خاندان پہلے ہی ایک بھائی کو ممبئی میں ٹرین حادثے میں کھو چکا تھا، اور اب دوسرا بھائی بھی لاپتہ ہے، جس کے صدمے نے ان کے والدین کو توڑ دیا ہے۔

راکیش کی 18 سالہ بیٹی خوشی نے خلیج ٹائمز کو بھیجی گئی ایک ویڈیو میں اپنے والد کی تصویر تھامے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے۔ خوشی کے مطابق ’’ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے والد کہاں ہیں، زندہ ہیں یا نہیں۔‘‘

بھارتی قونصلیٹ دبئی نے بتایا ہے کہ وہ اگست 2023 سے مقامی حکام کے ساتھ اس کیس پر رابطے میں ہے۔ قونصلیٹ کے مطابق راکیش کا ویزا 19 اگست 2023 کو ختم ہو گیا تھا، تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ، اسپتالوں، جیلوں اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

قونصلیٹ کے ترجمان کے مطابق تازہ ترین معلومات کے مطابق راکیش متحدہ عرب امارات میں ہی موجود ہیں، ان پر کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں، اور ان کی گمشدگی کی رپورٹ المرقبات پولیس اسٹیشن میں اب بھی موجود ہے۔

بھارت میں جھنجھنو کے علاقے میں راکیش کے والدین روزانہ اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔ مکھن لال کا کہنا ہے، ’’ہم صرف سچ جاننا چاہتے ہیں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ہم سے بات کروا دیں، اگر نہیں تو کم از کم ہمیں اتنا بتا دیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔‘‘

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button