
خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں حالیہ ہفتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں، جس سے سونے کی روایتی محفوظ سرمایہ کاری حیثیت بھی دباؤ میں آگئی ہے۔
مارکیٹ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث بعض دنوں میں سونا نو فیصد سے زائد گرا، جو 1983 کے بعد سب سے بڑی کمی کے قریب رہی، جبکہ کچھ دنوں میں 2008 کے بعد سب سے زیادہ یومیہ اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
سونے کی قیمت ایک موقع پر 5,500 ڈالر فی اونس سے تجاوز کرگئی، تاہم چند ہی دنوں میں 4,700 ڈالر سے نیچے آگئی۔ دبئی میں بھی سونے کی قیمتیں چند دنوں میں فی گرام 100 درہم تک گر گئیں، جو منڈی کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔
بدھ کی شام سونا 5,061 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، جس میں 3.1 فیصد اضافہ ہوا۔ دبئی میں 24 قیراط سونا 609 درہم اور 22 قیراط 563.75 درہم فی گرام فروخت ہوا۔
خبروں کے مطابق امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کی اطلاعات پر سونے کی قیمتیں گریں، تاہم بعد ازاں امریکی جنگی طیارے کی جانب سے ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کے واقعے نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ محفوظ اثاثوں، خصوصاً سونے، کی طرف راغب کردیا۔
ناگا ڈاٹ کام مشرق وسطیٰ کے جنرل منیجر جارج پاویل کے مطابق، "امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سونے کے لیے مثبت رجحان رکھتی ہے کیونکہ اس سے جغرافیائی خدشات بڑھتے ہیں”، تاہم ان کا کہنا ہے کہ "ممکنہ مذاکرات سرمایہ کاروں کے خدشات کم کرسکتے ہیں، جس سے سونے پر دباؤ آسکتا ہے، مگر صورتحال نہایت نازک ہے”۔
انہوں نے مزید کہا، "جغرافیائی کشیدگی میں سونا عموماً اچانک ردعمل دیتا ہے، قلیل مدتی تیزی جلد ختم بھی ہوسکتی ہے اگر حالات معمول پر آئیں”۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتیں صرف امریکا ایران کشیدگی سے ہی متاثر نہیں ہوتیں بلکہ شرح سود کے فیصلے اور مرکزی بینکوں کی خریداری بھی اہم عوامل ہیں۔
پیپر اسٹون کے سینئر ریسرچ اسٹریٹجسٹ مائیکل براؤن کا کہنا ہے، "حالیہ تیزی کو صرف انہی عوامل سے جوڑنا مشکل ہے، یہ زیادہ تر تکنیکی بحالی تھی، تاہم جغرافیائی خطرات اور مرکزی بینکوں کی خریداری سونے کے حق میں مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے”۔
ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ غیر متوقع اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے رسک مینجمنٹ، مناسب حکمت عملی اور مختلف اثاثوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے، تاکہ جذباتی فیصلوں سے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔







