متحدہ عرب امارات

یونان کی فضائی حدود کی بندش، یو اے ای اور خلیجی پروازوں پر محدود اثرات

خلیج اردو
یونان کی فضائی حدود میں ریڈیو کمیونیکیشن کی بڑے پیمانے پر خرابی کے باعث عارضی بندش کے بعد یو اے ای اور خلیجی ممالک کی بعض پروازیں متاثر ہوئیں، تاہم ایئرلائنز کی جانب سے متبادل روٹس اختیار کیے جانے کے باعث زیادہ تر پروازیں معمولی تاخیر کے ساتھ جاری رہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پروازوں کے طویل راستے اختیار کرنے سے بعض روٹس پر کرایوں میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایمرٹس ایئرلائن کے ترجمان نے بتایا کہ چار جنوری دو ہزار چھبیس کی صبح یونان کی فضائی حدود کی عارضی بندش کے باوجود ایتھنز آنے اور جانے والی ایمرٹس کی پروازیں معمولی حد تک متاثر ہوئیں، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مسافروں و عملے کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ فلائٹ ریڈار چوبیس کے مطابق یونان کی فضائی حدود جنوب مشرق سے یورپ میں داخلے کا ایک اہم راستہ ہے، اس لیے یو اے ای اور خلیجی ایئرلائنز کی وہ پروازیں جو اس راستے سے گزرتی ہیں متاثر ہوئیں، تاہم چند گھنٹوں میں متبادل فریکوئنسیز کے ذریعے مسئلہ عارضی طور پر حل کر لیا گیا، جبکہ خرابی کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔

لندن میں قائم اسٹریٹیجک ایرو ریسرچ کے چیف اینالسٹ ساجد احمد کا کہنا ہے کہ یو اے ای اور خلیجی ایئرلائنز کے لیے یونان جانے والی براہِ راست پروازوں میں تو یونان کی فضائی حدود استعمال ہوتی ہے، لیکن شمالی اور دیگر یورپی روٹس کے لیے اس فضائی حدود پر زیادہ انحصار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ جنوب میں واقع ہے اور اس سے پرواز کا وقت بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایمرٹس، قطر ایئرویز، اتحاد، ایئر عربیہ اور فلائی دبئی جیسی ایئرلائنز کی یورپی آپریشنز زیادہ متاثر نہیں ہوں گی کیونکہ وہ یونان کی فضائی حدود پر مکمل انحصار نہیں کرتیں۔

ساجد احمد نے مزید بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ہزاروں مسافر اور سینکڑوں پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک سے آنے جانے والی پروازیں، کیونکہ اس وقت موسمِ بہار اور رمضان سے قبل سفر کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اگر صورتحال بارہ سے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ برقرار رہی تو بالخصوص یورپی یونین کے اندر ہزاروں پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ریڈیو اور ٹیلی کمیونیکیشن نظام میں خرابی اور بیک اپ نہ ہونے کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button