
خلیج اردو
فجیرہ کے ساحل کے قریب ایک معمول کی ڈائیونگ کے دوران کی جانے والی ریسکیو کارروائی نے یو اے ای کو عالمی سطح پر سمندری تحفظ کی ایک اہم مثال بنا دیا۔ مارٹینی راک کے مقام پر دبئی سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور غوطہ خور مدثر واجد کو ایک اسٹنگ رے نظر آئی جو سو میٹر سے زائد ترک شدہ ماہی گیری کی لائن میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی۔ اسٹنگ رے سمندر کی تہہ سے چپکی ہوئی تھی اور نہ صحیح طرح تیر پا رہی تھی اور نہ ہی سانس لے پا رہی تھی، جس پر فوری مداخلت ناگزیر ہو گئی۔
مدثر واجد کے مطابق ابتدا میں صورتحال غیر معمولی محسوس نہیں ہوئی، لیکن جب اسٹنگ رے کے سانس لینے کے آثار کمزور پڑنے لگے تو واضح ہو گیا کہ جان بچانے کے لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔ اسی ایک ریسکیو نے آگے چل کر اوشن گارڈین ریسکیو ڈائیور اسپیشلٹی کی بنیاد رکھی، جسے اب عالمی ڈائیونگ ادارے پی اے ڈی آئی نے باقاعدہ تسلیم کر لیا ہے۔ اس تربیتی پروگرام کے تحت غوطہ خوروں کو سمندری حیات کو محفوظ، اخلاقی اور سائنسی انداز میں ماہی گیری کے جال، پلاسٹک اور دیگر انسانی فضلے سے نجات دلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔
مدثر واجد کا کہنا ہے کہ بغیر تربیت کے کی جانے والی ریسکیو کوششیں اکثر جانور، ریف اور خود غوطہ خور کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق صرف انہی حالات میں مداخلت ہونی چاہیے جہاں نقصان واضح طور پر انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہو، جیسے گھوسٹ نیٹس، کانٹے یا پلاسٹک۔ قدرتی بیماری یا شکاری اور شکار کی صورتحال میں مداخلت سے گریز ہی بہتر ہوتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر تربیت یافتہ افراد کی جلد بازی سنگین حادثات کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ تناؤ میں موجود فشنگ لائن اچانک ٹوٹ کر خطرناک حد تک نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی طرح عام ڈائیونگ چاقو اکثر موٹی لائن کاٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ریسکیو کے دوران غوطہ خوروں کو اپنی سانس، توازن اور حفاظتی حدود پر مسلسل نظر رکھنی ہوتی ہے، کیونکہ حد سے زیادہ توجہ ایک اور حادثے کو جنم دے سکتی ہے۔
مدثر واجد کے مطابق اوشن گارڈین کورس میں ’رکیں، سانس لیں، سوچیں‘ کے اصول پر عمل سکھایا جاتا ہے، جس میں جانور کو چھونے سے پہلے مکمل منصوبہ بندی، ٹیم کی تیاری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ غلط طریقے سے کی گئی ریسکیو نہ صرف جانور کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ نازک مرجانی چٹانوں کو بھی تباہ کر سکتی ہے، جو دہائیوں میں بنتی ہیں۔
سمندری فضلہ، خاص طور پر ترک شدہ ماہی گیری کا سامان، آج بھی سمندری حیات کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ مدثر واجد کا کہنا ہے کہ بعض اوقات براہ راست مداخلت کے بجائے صرف تصویر لینا، مقام کی نشاندہی کرنا اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا ہی سب سے ذمہ دارانہ قدم ہوتا ہے۔ فجیرہ میں کی گئی یہ ایک ریسکیو کارروائی آج ایک عالمی تربیتی تحریک بن چکی ہے، جو یو اے ای کے ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کے اہداف کی عکاس ہے۔







