متحدہ عرب امارات

حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ کردیا

خلیج اردو
دوحہ: حماس کی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کی غیر مسلح ہونے کی شق میں تبدیلی کی جائے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس چند مخصوص شقوں میں ترمیم چاہتی ہے اور اسرائیل کے مکمل انخلا کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتی ہے کہ رہنماؤں کے فلسطین کے اندر یا باہر قتل نہ کیے جانے کی بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

حماس کے مذاکرات کاروں نے گزشتہ روز دوحہ میں ترک، مصری اور قطری حکام سے بات چیت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر نے حماس کو امن منصوبے پر جواب دینے کے لیے تین سے چار دن کا وقت دیا ہے اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر حماس منصوبہ تسلیم نہیں کرتی تو سخت نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

حماس کی قیادت نے موقف اپنایا ہے کہ امن منصوبے پر بات چیت کی گنجائش محدود ہے کیونکہ ان کے مطابق اسرائیل اور بعض عرب رہنماؤں نے پہلے ہی کچھ امن تجاویز منظور کر لی ہیں، تاہم حماس کی منظوری کے لیے ان تجاویز میں مطلوبہ شرائط کا شامل ہونا ضروری ہے۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ امن عمل میں شامل ہونے سے پہلے اپنی سیکیورٹی و سیاسی شرائط کی تکمیل چاہتی ہے اور اس سلسلے میں حتمی فیصلہ مذاکراتی عمل سے طے ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button