
خلیج اردو
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی صدر کے تیار کردہ ڈرافٹ میں پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ تمام ترامیم شامل نہیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کی ٹیم نے ہمیں نکات فراہم کیے جس پر انہوں نے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اپنے ایجنڈے کو بھی دہرا دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے آٹھ اسلامی ملکوں کے ساتھ ملاقات کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا جس کا مقصد کسی نہ کسی طریقے سے غزہ میں فوری جنگ بندی کی کوشش کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایجنڈے میں غزہ کی تعمیر نو، مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو روکا جانا اور انسانی ہنگامی امداد کی فراہمی شامل تھی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ آٹھ اسلامی ممالک منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات کرنے کی بات کر رہے ہیں اور اس میں حصہ لینے یا نہ لینے کے حوالے سے پاکستان بھی جلدی فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا موقف واضح کیا اور بین الاقوامی کوششوں کی تائید کے ساتھ اپنے تحفظات بھی سامنے رکھے۔






