
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں عیدالفطر سے قبل مہندی لگانے والی فنکار خواتین کی مصروفیات عروج پر پہنچ گئیں، جہاں جدید اور منفرد ڈیزائنز کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دبئی میں مقیم مہندی آرٹسٹ آسیہ رحیم کے مطابق عید سے پہلے کے دن سال کے مصروف ترین ہوتے ہیں، وہ صبح سات بجے سے اگلے دن فجر تک مسلسل کام کرتی ہیں، جبکہ اس سال بھی ان کا شیڈول کافی حد تک مصروف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک سے آنے والے کچھ گاہکوں کی کمی ہوئی ہے، تاہم مجموعی طور پر بکنگز برقرار ہیں، اور گروپ بکنگ کو ترجیح دی جاتی ہے جہاں ایک ہی جگہ کئی افراد کو مہندی لگائی جاتی ہے۔
مہندی کے رجحانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جیگوا مہندی اور گنبد نما ڈیزائنز مقبول ہیں، جبکہ نوجوان نسل میں بھارتی اور عربی ڈیزائنز کا امتزاج خاص طور پر پسند کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب معروف مہندی آرٹسٹ ڈاکٹر عذرا خمیسہ نے اس سال بیرون ملک مہندی کونز کی ترسیل روک دی ہے، جس کی وجہ ترسیلی اخراجات میں اضافہ اور غیر یقینی صورتحال بتائی گئی ہے۔
شارجہ کی ایک اور آرٹسٹ تناظ نے بتایا کہ موجودہ حالات کے باعث وہ طویل سفر سے گریز کرتے ہوئے صرف مقامی آرڈرز لے رہی ہیں، جبکہ صارفین میں اسٹینسلز اور پیَل آف اسٹیکرز جیسے آسان متبادل بھی مقبول ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بدلتے حالات کے باوجود عید کی روایتی خوشیاں برقرار ہیں، تاہم سہولت اور وقت کی بچت کے پیش نظر نئے انداز تیزی سے اپنائے جا رہے ہیں۔







