
خلیج اردو
بھارت میں تحقیقات کے دائرہ کار بڑھنے کے ساتھ ہی ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ 400 ملین درہم کے بلیو چپ انویسٹمنٹ اسکینڈل نے اس عالمی تبدیلی کو نمایاں کر دیا ہے جس میں اب ایسے ڈیجیٹل مالیاتی بہاؤ بھی ٹریس کیے جا رہے ہیں جنہیں ماضی میں ناقابلِ سراغ سمجھا جاتا تھا۔
یہ پیش رفت بلیو چپ کے بانی رویندر ناتھ سونی کی گرفتاری کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ دبئی سے چلنے والی کمپنی مارچ 2024 میں اچانک بند ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں یو اے ای رہائشیوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سونی متعدد چیک باؤنس اور سرمایہ کاروں کی شکایات پر دبئی میں مطلوب تھے۔ انہیں 30 نومبر کو دہرادون سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس نے ان کے ٹھکانے سے کھانے کی ہوم ڈیلیوری آرڈر کو ٹریس کیا۔
کمپنی بند ہونے سے کچھ دن پہلے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سونی کو بر دبئی آفس میں درازوں سے نوٹوں کے بڑے بنڈل نکالتے، انہیں میز پر رکھنے اور پھر سوٹ کیس اور بیگ میں بھرنے کا عمل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تفتیش کار یہ جانچ رہے ہیں کہ آخری دنوں میں دفتر سے کتنی رقم نکالی گئی۔
خلیج ٹائمز نے مئی 2024 میں رپورٹ کیا تھا کہ سونی نے کمپنی بند کرنے سے چند دن پہلے 41.35 ملین ڈالر ایک نامعلوم کرپٹو کرنسی والیٹ میں منتقل کیے تھے، جو اب بھارتی تحقیقاتی اداروں کا اہم فنانشل سراغ ہے۔
دبئی کے سائبر سیکیورٹی ماہر ریاض کمال ایوب کے مطابق بلیو چپ کیس نے ثابت کیا ہے کہ جدید مالیاتی تحقیقات میں ڈیجیٹل فورینزکس بنیادی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج منی ٹریل صرف بینک ٹرانسفرز تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مختلف بلاک چینز، والٹس، او ٹی سی بروکرز اور مکسنگ سروسز تک پھیلا ہوتا ہے، مگر بینکنگ چینلز کے برعکس بلاک چین سرگرمیاں مستقل ریکارڈ چھوڑتی ہیں۔
ایوب کے مطابق ابتدائی تحقیق میں وہی پیٹرن دیکھنے کو ملا ہے جو بڑے عالمی فراڈ نیٹ ورکس میں ہوتا ہے: متعدد والٹس سے بڑی رقوم مرکزی جگہ پر آتی ہیں، پھر تیزی سے مختلف نئے والٹس میں تقسیم ہوتی ہیں اور آخر میں ایکسچینجز یا غیر ریگولیٹڈ بروکرز کے قریب دوبارہ اکٹھی ہوتی ہیں۔ یہ طریقۂ کار عام طور پر پونزی اسکیموں میں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج کل ریگولیٹرز چین اینالسس، الپٹِک اور ٹی آر ایم لیبز جیسے ٹولز استعمال کرتے ہیں جو ہزاروں والٹس کے باہمی تعلقات، مشکوک سرگرمیوں اور ڈارک نیٹ سے جڑے کلسٹرز کو فورا شناخت کر لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’جو کام پہلے کئی ماہ لیتا تھا، اب چند گھنٹوں میں ممکن ہے۔ بلاک چین پر ہر قدم ڈیٹا پوائنٹ بڑھا دیتا ہے، اور جب اسے ایکسچینج کے کے وائی سی ریکارڈز سے ملایا جاتا ہے تو شناخت جلد سامنے آ جاتی ہے۔‘‘
عالمی سطح پر بڑے کرپٹو فراڈ کیسز اور بین الاقوامی ریگولیٹرز کے اشتراک نے بھی ایسی تحقیقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ’’آج اگر کوئی مشکوک والیٹ یورپ یا ایشیا سے ٹچ کرتا ہے تو اس کا ڈیٹا فوراً شیئر ہو جاتا ہے،‘‘ ایوب نے کہا۔
بھارتی پولیس کے مطابق بلیو چپ کا مالیاتی دائرہ بہت زیادہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس، کانپور نگر، انجلی ویشواکرمہ نے بتایا کہ سونی کے کم از کم دس بینک اکاؤنٹس مختلف شہروں میں شناخت کر لیے گئے ہیں اور اب رقومات کی وہ نقل و حرکت بھی دیکھی جا رہی ہے جو بینکوں سے باہر کرپٹو والٹس تک گئی۔
کانپور پولیس کمشنر راگھوبیر لال کے مطابق اسکینڈل میں بارہ غیر ملکی معاونین کی نشاندہی ہو چکی ہے جن میں دبئی کے افراد بھی شامل ہیں۔ مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں کی ٹرانزیکشنز کی گئی اور پھر انہیں کریپٹو میں تبدیل کر کے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا۔
یو اے ای کے متاثرین کے لیے تحقیقات کا پھیلتا ہوا دائرہ امید کی کرن لے کر آیا ہے۔ دبئی میں مقیم کیرالہ کے ایک رہائشی جس نے 10 لاکھ درہم کھوئے تھے، نے کہا: ’’اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کچھ رقم واپس مل سکے گی؟‘







