
خلیج اردو
دبئی اور یو اے ای میں پہلی بار 14 قیراط سونے کی قیمتوں کے اعلان کے باوجود جیولرز کا کہنا ہے کہ 22 قیراط سونا ہی مقامی اور غیر ملکی خریداروں کی اولین ترجیح رہے گا۔
کنز جیولز کے مینیجنگ ڈائریکٹر انیل دھانک کے مطابق ’’دبئی کا گولڈ کسٹمر ہمیشہ سونے کی خالصیت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہاں زیورات کو زیبائش کے ساتھ ایک طویل مدتی سرمایہ کاری بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے خریدار ڈیزائن یا وزن پر سمجھوتا کر لیتے ہیں لیکن خالصیت پر نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ برصغیر اور جی سی سی کے خریداروں میں 22 قیراط کی پسند آج بھی گہری جڑی ہوئی ہے۔
دھنک نے بتایا کہ 14 قیراط سونا مارکیٹ میں نئی ورائٹی تو لائے گا اور نوجوان فیشن شاپرز کو متوجہ کر سکتا ہے، لیکن یہ 22 قیراط کی روایتی طلب کو متاثر نہیں کرے گا۔ خالصیت، ری سیل ویلیو، لی کوئڈیٹی اور وراثتی حیثیت کے باعث 22 قیراط بدستور مرکزی ترجیح رہے گا۔
گزشتہ ہفتے دبئی جیولری گروپ، جس کے 600 سے زائد ممبرز مختلف گولڈ اور جیولری سیکٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں، نے پہلی بار 14 قیراط کے سرکاری نرخ جاری کیے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عالمی سطح پر سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں تک پہنچ گئیں، اور دبئی میں 24 قیراط سونا 500 درہم فی گرام سے بھی اوپر چلا گیا۔
اتوار کو 24 قیراط 505.75 درہم، 22 قیراط 468.25 درہم، 21 قیراط 449 درہم، 18 قیراط 385 درہم اور 14 قیراط 300.25 درہم فی گرام کے حساب سے فروخت ہوا۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 4197.81 ڈالر فی اونس پر بند ہوا۔
دبئی کو ’’سٹی آف گولڈ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہاں آنے والے سیاح سونے کی خالصیت اور بے شمار ڈیزائنز کے باعث زیورات کو خریداری کی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔
14 قیراط اپنی جگہ ضرور بنائے گا
لوکل جیولرز کے مطابق فی الحال دبئی میں 14 قیراط جیولری کی رینج محدود ہے، تاہم توقع ہے کہ ڈائمنڈ اسٹڈڈ جیولری کی کیٹیگری میں اس کی اچھی طلب پیدا ہوگی۔ انیل دھانک کے مطابق ’’14 قیراط اپنا ایک مخصوص مقام ضرور بنائے گا لیکن دبئی کی گولڈ مارکیٹ کا مرکز 22 قیراط ہی رہے گا‘‘۔
بافلہ جیولرز کے مینیجنگ ڈائریکٹر چیرگ وورا نے بتایا کہ دبئی کا رجحان ہمیشہ 22 قیراط روایتی زیورات اور 18 قیراط فیشن اسٹائل کی جانب رہا ہے۔ ان کے مطابق 14 قیراط کا تعارف عالمی رجحانات سے مطابقت رکھتا ہے جہاں مغربی مارکیٹس میں 14 قیراط غالب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آزمائشی طور پر 14 قیراط کے چند جدید ڈیزائن متعارف کرا رہے ہیں اور آئندہ دو کوارٹرز میں اس کی توسیع کا منصوبہ ہے۔
ملابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کے شملال احمد نے کہا کہ ان کا برانڈ ہلکے وزن کے 18 قیراط فیشن ایبل زیورات پیش کرتا ہے جو روزمرہ استعمال کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ ہائی قیمتوں کے باوجود سونا آج بھی ایک محفوظ اور بڑھتی ہوئی قدر رکھنے والی سرمایہ کاری ہے۔







