
خلیج اردو
بھارت نے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکرز پر حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک جبکہ 10 بھارتی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق ADNOC کے ٹینکرز ایم ٹی البحیہ (MT Al Bahiyah) اور ایم ٹی ممباسا (MT Mombasa) پر مجموعی طور پر 46 ملاح سوار تھے، جن میں 30 بھارتی شہری شامل تھے۔
وزارت کے مطابق ایم ٹی البحیہ پر موجود 12 بھارتی شہریوں میں سے ایک ملاح ہلاک اور ایک زخمی ہوا، جبکہ ایم ٹی ممباسا پر سوار 18 بھارتیوں میں سے 9 زخمی ہوئے، جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
بھارت نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کر کے حملے پر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے بیان میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کو متاثر کرنے والے ایسے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ عمان کی سمندری حدود میں آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے سے گزرتے ہوئے قومی آئل ٹینکرز کو دو ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک، آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں دو یوکرینی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں چار کی حالت تشویشناک ہے۔ دونوں جہازوں کو آگ لگنے کے باعث مادی نقصان بھی پہنچا، تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اماراتی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔







