
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں امان سینٹر فار ویمن اینڈ چلڈرن ان خواتین کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنس کر اپنے خواب اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں۔ ان خواتین کو جھوٹی ملازمتوں اور بہتر زندگی کے وعدوں کے ذریعے یو اے ای لایا جاتا ہے، جہاں وہ دھوکے، استحصال اور جبر کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ایسے متاثرہ افراد جب پولیس، پبلک پراسیکیوشن یا نیشنل ہاٹ لائن کے ذریعے شناخت کیے جاتے ہیں، تو انہیں امان سینٹر جیسے خصوصی شیلٹرز میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہاں انہیں طبی علاج، نفسیاتی معاونت، قانونی رہنمائی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنی زندگی سنوار سکیں۔
زیادہ تر متاثرہ خواتین جسمانی یا ذہنی طور پر صدمے کا شکار ہوتی ہیں۔ سینٹر میں انہیں علاج، کونسلنگ اور ہنر سکھانے کے مواقع دیے جاتے ہیں تاکہ وہ خود مختار زندگی گزار سکیں۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد، کچھ خواتین یو اے ای میں رہ کر کام کرتی ہیں جبکہ دیگر وطن واپس جا کر وکٹم سپورٹ فنڈ کی مدد سے چھوٹے کاروبار جیسے بیوٹی سیلون، درزی کی دکان یا کریانہ اسٹور شروع کرتی ہیں۔
امان سینٹر کی ڈائریکٹر خدیجہ محمد العجیل کے مطابق مرکز کا مقصد متاثرہ خواتین کی خود اعتمادی اور وقار بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم صرف علاج نہیں کرتے بلکہ انہیں نئی زندگی شروع کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ کچھ خواتین یہاں نیا سفر شروع کرتی ہیں، اور کچھ وطن واپس جا کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔”
سینٹر خاندانی مسائل کے شکار خواتین اور لڑکیوں کے معاملات پر بھی کام کرتا ہے۔ ایک کیس میں ایک نوعمر لڑکی کو خاندانی تنازع کے باعث تعلیم چھوڑنی پڑی تھی، جسے مشاورت اور یونیورسٹی پارٹنرشپ کے ذریعے دوبارہ تعلیم کی طرف لایا گیا، اور وہ گریجویشن کے بعد ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
ایک اور کیس میں گھریلو دباؤ کا شکار لڑکی کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ تربیتی ورکشاپس کے ذریعے رہنمائی دی گئی جس سے خاندانی تعلقات بہتر ہوئے اور لڑکی نے دوبارہ تعلیم جاری رکھی۔
خدیجہ العجیل نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور مختلف قومیتوں کے امتزاج کے باعث معاشرتی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، "سماجی مسائل وقت کے ساتھ بدلتے ہیں، اس لیے اداروں کو بھی ان تبدیلیوں کے مطابق اپنی رہنمائی اور بحالی کے طریقے اپنانے چاہییں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں سے بدسلوکی کی شکایات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو عموماً ثقافتی یا نسلی فرق کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ "بعض اوقات بچے کہتے ہیں کہ والدین نے آئی پیڈ استعمال سے روکا، اس لیے وہ ناراض ہیں۔ ہمارا کام یہ سمجھانا ہے کہ والدین کا رویہ کب تربیتی ہے اور کب نقصان دہ۔”
سینٹر متاثرہ بچوں کے انٹرویوز عدالت کی بجائے بچوں کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول میں لیتا ہے تاکہ وہ اعتماد سے بات کر سکیں۔ قیام کی مدت ایک دن سے چھ ماہ تک ہو سکتی ہے، اور دورانِ قیام متاثرہ خواتین اور بچوں کو تربیت، کونسلنگ اور بحالی پروگرامز فراہم کیے جاتے ہیں۔
امان سینٹر کا مقصد محض پناہ دینا نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں اور خواتین کو دوبارہ مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ ایک باعزت اور مستحکم زندگی گزار سکیں۔







