
خلیج اردو
دبئی: جلد ہی دبئی یا شارجہ کی سڑکوں پر دوڑتے ہوئے الیکٹرک ٹک ٹک دیکھے جا سکتے ہیں۔ چین کی ایک کمپنی کی تیار کردہ یہ برقی گاڑیاں اس وقت روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کی منظوری کے مراحل میں ہیں، تاہم کمپنی کو توقع ہے کہ جلد ہی انہیں یو اے ای کی مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے گا۔
یہ تین پہیوں والی گاڑیاں، جو مصر، تھائی لینڈ، بھارت اور دیگر ایشیائی و افریقی ممالک میں عام ہیں، اب ماحول دوست انداز میں یو اے ای آنے کو تیار ہیں۔ کمپنی گرین پاور جی سی سی کے سیلز ایگزیکٹو احمد طوسیف کے مطابق الیکٹرک ٹک ٹک کو ہوٹلوں اور ریزورٹس میں گالف کارٹ کی طرز پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں دبئی میں منعقدہ ایوالو فیوچر موبیلٹی شو میں اپنی الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے ساتھ ٹک ٹک بھی نمائش کے لیے پیش کیا۔
گرین پاور چین اور مصر سمیت کئی ممالک میں کام کر رہی ہے۔ احمد طوسیف نے بتایا کہ حال ہی میں دو سو سولر الیکٹرک ٹرائی سائیکلز مصر بھیجی گئی ہیں، جبکہ یو اے ای میں فی الحال چھ گاڑیاں آزمائشی بنیادوں پر موجود ہیں۔ کمپنی کو عوام کی جانب سے درجنوں استفسارات موصول ہو چکے ہیں۔
یہ ٹک ٹک شمسی توانائی اور بجلی دونوں سے چلتا ہے۔ اس کی چھت پر نصب سولر پینلز سورج کی روشنی سے بیٹریاں چارج کرتے ہیں جو برقی موٹر کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک معیاری چارجنگ پورٹ بھی موجود ہے تاکہ بادلوں کے دنوں میں بھی گاڑی قابل استعمال رہے۔
احمد طوسیف کے مطابق اگر مکمل طور پر سورج کی توانائی سے چارج کیا جائے تو گاڑی 500 کلومیٹر تک چل سکتی ہے۔ اسے گھر پر بھی چارج کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض ماڈلز میں بیٹری تبدیل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ایک ٹک ٹک کی قیمت تقریباً 8 ہزار درہم ہے اور اس کے بعد صرف معمولی دیکھ بھال کی لاگت رہ جاتی ہے۔
یو اے ای پہلے ہی سبز توانائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ نیشنل الیکٹرک وہیکلز پالیسی کے تحت ملک کا ہدف ہے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں توانائی کے استعمال میں 20 فیصد کمی لائی جائے اور 2050 تک کل گاڑیوں میں سے 50 فیصد برقی گاڑیاں ہوں۔ وزارت توانائی و انفراسٹرکچر نے 2023 میں ’گلوبل ای وی مارکیٹ‘ منصوبہ شروع کیا تھا جو ملک کو ماحولیاتی اہداف کے قریب لانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔







